بے سہارا افراد کی خدمت زندگی کا بہترین مشن ہے، زمرد خان
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان سویٹ ہوم کے سربراہ زمرد خان نے کہا ہے کہ بے سہارا افراد کی خدمت زندگی کا بہترین مشن ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط اور باوقار معاشرے کی تشکیل میں مدد دیتا ہے۔
انہوں نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے سویٹ ہوم کے بچوں کو نیشنل چلڈرن کنونشن میں شرکت کی دعوت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بچوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
زمرد خان نے کہا کہ بچوں کے حقوق کا عالمی چارٹر صرف دستاویز تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں تاکہ وہ معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سویٹ ہوم ہر بچے کو ملت کے مقدر کا ستارا سمجھ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ سویٹ ہوم کے بچے آج میڈیکل کالجوں، انجینئرنگ یونیورسٹیوں اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو اس ادارے کی محنت اور وژن کا عملی ثبوت ہے۔
زمرد خان کا کہنا تھا کہ پاکستان سویٹ ہوم اس وقت تعلیم و تربیت اور انسانی فلاح و بہبود کے دس مختلف ادارے چلا رہا ہے اور ملک بھر میں بے سہارا بچوں کی کفالت اور روشن مستقبل کے لیے اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سویٹ ہوم
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔