امریکا میں باپ نے ٹرمپ پر بحث کے بعد بیٹی کو گولی مار دی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
رواں برس 10 جنوری کو امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر پراسپر میں اپنے والد کے گھر گولی لگنے سے ہلاک ہونیوالی 23 سالہ برطانوی لوسی ہیریسن کی موت کی تحقیقات کے لیے چیشر کورونر کورٹ میں انکوائری کا آغاز ہو گیا ہے۔
سماعت کے دوران انکشاف ہوا کہ واقعے کے روز لوسی اور ان کے والد کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے شدید بحث ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایپسٹین سیکس اسکینڈل: شریک مجرمہ گیلین میکسویل کی کانگریس میں پیشی، کیا صدر ٹرمپ بھی خطرے میں ہیں؟
لوسی ہیریسن، جو چیشائر کے علاقے وارنگٹن سے تعلق رکھتی تھیں اور فیشن برانڈ بوہو میں بطور بائر کام کر رہی تھیں، چھٹیاں گزارنے اپنے بوائے فرینڈ سیم لِٹلر کے ہمراہ امریکا گئی تھیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ 10 جنوری کی صبح لوسی اور ان کے والد کرس ہیریسن کے درمیان ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کی متوقع حلف برداری کے تناظر میں گرما گرم بحث ہوئی۔
Father kills his own daughter for being anti-Trump, and a Prosper TX grand jury does not indict on a single crime.
— Peter Muenzen (@PeterMuenzen) February 11, 2026
سیم لِٹلر کے مطابق بحث کے دوران لوسی نے اپنے والد سے سوال کیا کہ اگر میں اس لڑکی کی جگہ ہوتی اور میرے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہوتی تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا۔
اس پر کرس ہیریسن نے مبینہ طور پر جواب دیا کہ ان کی دو اور بیٹیاں بھی ان کے ساتھ رہتی ہیں، اس لیے انہیں اتنا دکھ نہ ہوتا، اس جواب پر لوسی شدید دل برداشتہ ہو کر اوپر چلی گئیں۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ لوسی اپنے والد کے اسلحہ رکھنے کے معاملے پر اکثر پریشان ہو جاتی تھیں، وقوعے کے روز ایئرپورٹ روانگی سے تقریباً آدھا گھنٹہ قبل، لوسی کچن میں موجود تھیں جب ان کے والد انہیں ہاتھ سے پکڑ کر گراؤنڈ فلور پر واقع اپنے بیڈروم میں لے گئے۔
مزید پڑھیں: ایپسٹین فائلز: معروف فنکارہ شیریل کرو کا ڈونلڈ ٹرمپ کی گرفتاری کا مطالبہ
سیم لِٹلر کے مطابق تقریباً 15 سیکنڈ بعد ایک زور دار دھماکے کی آواز آئی اور پھر کرس ہیریسن اپنی اہلیہ کو پکارتے ہوئے چیخنے لگے۔
’جب میں کمرے میں داخل ہوا تو لوسی باتھ روم کے دروازے کے قریب فرش پر پڑی تھیں اور کرس بے ربط انداز میں چیخ رہے تھے۔‘
کرس ہیریسن کے تحریری بیان کے مطابق وہ اور ان کی بیٹی اس وقت گن کرائم سے متعلق ایک خبر دیکھ رہے تھے جب انہوں نے لوسی کو بتایا کہ ان کے پاس ایک گن ہے اور پوچھا کہ کیا وہ اسے دیکھنا چاہتی ہیں۔
مزید پڑھیں: باراک اوباما اور ان کی اہلیہ کی توہین آمیز ویڈیو شیئر کرنے پر ڈونلڈ ٹرمپ تنقید کی زد میں
وہ بیڈروم میں گئے جہاں انہوں نے بیڈ سائیڈ کیبنٹ سے گلاک 9 ایم ایم سیمی آٹومیٹک پستول نکالی۔
ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی انہوں نے گن اٹھا کر دکھانا چاہی، اچانک گولی چل گئی اور لوسی فوراً گر گئیں، انہوں نے کہا کہ انہیں یاد نہیں کہ اس وقت ان کی انگلی ٹریگر پر تھی یا نہیں۔
کرس ہیریسن نے بیان میں تسلیم کیا کہ وہ ماضی میں شراب نوشی کے عادی رہے ہیں اور واقعے کے دن وہ جذباتی تھے کیونکہ بیٹی کی واپسی کا وقت قریب تھا، اسی باعث انہوں نے دوبارہ شراب پی لی۔
Literally all MAGA has to go, this is genuinely a cult if you are killing your FAMILY over it. Your baby girl who you RAISED and you just shot her???? OVER POLITICS?!?!?? https://t.co/BBfYMFZoeZ
— Bella (@__GoonKnight__) February 11, 2026
پولیس افسر لوسیانا ایسکیلرا کے بیان کے مطابق جب انہیں گھر بلایا گیا تو انہوں نے کرس کی سانس سے شراب کی بو محسوس کی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ انہوں نے اسی دن دوپہر ایک بجے سے کچھ پہلے 500 ملی لیٹر کی شراب کی 2 بوتلیں خریدی تھیں۔
پولیس نے ابتدائی طور پر اس واقعے کو ممکنہ طور پر غیر ارادی قتل کے طور پر دیکھا۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے بارک اوباما سے متعلق شیئر کی گئی اپنی توہین آمیز ویڈیو کی خود ہی مذمت کردی
تاہم کولن کاؤنٹی کی گرینڈ جیوری نے کرس ہیریسن پر فردِ جرم عائد کرنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد کوئی فوجداری مقدمہ قائم نہیں کیا گیا۔
سماعت کے آغاز پر کرس ہیریسن کی وکیل اینا سیموئل نے کورونر جیکولین ڈیونش سے کیس سے الگ ہونے کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ انکوائری کا انداز فیکٹ فائنڈنگ کے بجائے فوجداری تفتیش جیسا ہے۔
تاہم لوسی کی والدہ جین کوٹس کی نمائندہ لوئس نورس نے اس درخواست کو ’قانونی ٹیم کی اچانک چال‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمرے میں صرف ایک شخص موجود تھا جس نے لوسی کو گولی ماری۔
کورونر نے خود کو کیس سے الگ کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
اپنے وکلا کے ذریعے جاری بیان میں کرس ہیریسن نے کہا کہ وہ اپنے عمل کے نتائج کو مکمل طور پر تسلیم کرتے ہیں۔
’ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب میں اس نقصان کا بوجھ محسوس نہ کرتا ہوں، اور یہ بوجھ میں ساری زندگی اٹھاؤں گا۔‘
مزید پڑھیں:
لوسی کی والدہ جین کوٹس نے اپنی بیٹی کو ’زندگی سے بھرپور شخصیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ حساس اور پرجوش تھی، اور اہم معاملات پر بحث کرنا پسند کرتی تھی۔
سماعت بدھ تک ملتوی کر دی گئی ہے، جب کورونر کی جانب سے حتمی نتائج سنائے جانے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹیکساس ڈونلڈ ٹرمپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹیکساس ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ