data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی کو عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کسی بھی لمحے ایٹمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتی تھی، تاہم امریکی معاشی دباؤ اور سفارتی حکمتِ عملی کے باعث صورتحال کو قابو میں لایا گیا

 امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری شدید جھڑپیں نہایت خطرناک رخ اختیار کر چکی تھیں، دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تنازع کے دوران مجموعی طور پر 10 جنگی طیارے تباہ ہوئے تھے۔

 صدر ٹرمپ نے کہا کہ اور دونوں ممالک ایٹمی تصادم کے دہانے پر کھڑے تھے،امریکا کی جانب سے ٹیرف اور دیگر معاشی اقدامات کے ذریعے فریقین کو پیغام دیا گیا، جس کے بعد جنگی ماحول کو ٹھنڈا کرنے میں مدد ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ میری نظر میں فریقین نہایت شدت سے لڑ رہے تھے اور اگر بروقت مداخلت نہ کی جاتی تو نتائج نہایت تباہ کن ہو سکتے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے گفتگو کے دوران ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ تہران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے، اگر ایران نے مذاکرات سے گریز کیا تو یہ اس کے لیے دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا، امریکا ایران کے ساتھ کسی ایسے معاہدے کا خواہش مند ہے جو خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنا سکے۔

ٹرمپ کے اس بیان کو عالمی سطح پر ایک بار پھر جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے ممکنہ اثرات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات خطے میں سفارتی دباؤ اور عالمی طاقتوں کے کردار کو نمایاں کرتے ہیں۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا