ٹیکنالوجی سے شفافیت ممکن اور کرپشن کی روک تھام کیلیے اے آئی ناگزیر ہے، وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی خصوصاً آرٹیفیشل انٹیلیجینس کے استعمال کے بغیر شفاف اور مؤثر حکومتی نظام کا تصور ممکن نہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجینس ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت سرکاری ڈھانچے میں ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے انسانی مداخلت کم کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہے تاکہ بدعنوانی کی راہیں مسدود کی جا سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس نظام میں خودکار اور فیس لیس پراسس متعارف کرائے جا رہے ہیں جس سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ ریونیو لیکجز میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت مالیاتی شعبے میں درست فیصلوں، ڈیٹا اینالیسز اور کارکردگی میں بہتری کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے باقاعدہ اتھارٹی کا قیام معیشت کو محفوظ اور مستحکم بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔ نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے کیونکہ مستقبل کی معیشت ٹیکنالوجی پر انحصار کرے گی۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ مؤثر ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے مربوط پالیسی اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف ریونیو بلکہ پبلک سروس ڈلیوری اور ماحولیاتی نظم و نسق میں بھی انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر مسابقت کے لیے پاکستان کو ٹیکنالوجی اپنانا ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اے آئی کے ذریعے مالیاتی نظم بہتر ہوگا، وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے گا اور عوام کو سہولیات کی فراہمی میں شفافیت آئے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،