کس صوبے سے کتنے فوجی شہید ہوئے؟ وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایوان میں اعدادوشمار پیش کردیے
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سال 2021 سے فروری 2025 تک پاک فوج کے مجموعی طور پر 3,141 افسران، جوان اور سپاہی شہید ہوئے ہیں۔ ان میں 170 افسر، 212 جے سی او اور 2,759 جوان شامل ہیں۔
وزیر دفاع نے شہدا کے صوبوں کے لحاظ سے بھی اعداد و شمار پیش کیے اور کہا کہ بلوچستان میں 103، گلگت بلتستان میں 161، خیبر پختونخوا میں 534 اور پنجاب میں 1,697 شہادتیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی ایک ضلع یا صوبے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی قربانی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: شہدا کے خاندانوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان
خواجہ آصف نے کہا کہ شہداء نے حلف کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، جبکہ سیاستدان پارٹیاں بدلتے رہتے ہیں۔ فوجیوں کا تعلق جس علاقے سے بھی ہو، وہ ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، جبکہ ہم اقتدار کی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج کو 4 اضلاع کی فوج قرار دینا سراسر غلط فہمی ہے، اور اگر ہم ذاتی سیاست کی خاطر خون سے لکھی گئی سرحدی لائنوں کو نظر انداز کریں تو ہمیں ایوان میں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے شہید ہونے والے میجر عدیل کی نماز جنازہ ادا، شہدا قوم کا فخر ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ بلوچستان میں اگر کسی پنجابی کا شناختی کارڈ دیکھ کر انہیں نشانہ بنایا جاتا تو پنجاب احتجاج نہیں کرتا اور بلوچستان سے بھی کوئی آواز نہیں اٹھتی۔ میں صوبائیت پر یقین نہیں رکھتا، لیکن شہداء کے اعداد و شمار کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کسی ایک صوبے یا ضلع کی قربانی نہیں بلکہ ملک کی جنگ ہے، اختلافات اپنی جگہ ہیں لیکن شہداء ہماری سرخ لکیر ہیں۔ کئی سالوں سے میں شہداء کے جنازے پڑھ رہا ہوں، اور ان کا تعلق کسی ایک صوبے سے نہیں بلکہ وہ اول و آخر پاکستانی ہوتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: وزیر دفاع نے کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
کابینہ کمیٹی برائے متعدی امراض، ڈینگی و ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب کے وزرائے صحت سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر صدارت کی۔
اس موقع پر پنجاب کے وزرائے صحت نے کہا کہ ڈینگی کے افزائش والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال پر قابو پانے کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں، اقدامات کی ذمہ داری تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے۔
خواجہ عمران نے سی ای او ہیلتھ کو ضلعی انتظامیہ کیساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایچ آر منیجمنٹ، والنٹیر ماڈل کو اپناتے ہوئے ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے، یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ کو انسداد ڈینگی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے، عوام اپنےگھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کویقینی بنائیں