چیٹ جی پی ٹی کے نام کے پیچھے چھپی حقیقت کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا بھر میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے میدان میں جنریٹیو ماڈلز نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے اور ان میں چیٹ جی پی ٹی سب سے نمایاں اور مقبول ترین چیٹ بوٹ کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم صرف سوالات کے جوابات دینے تک محدود نہیں بلکہ کوڈنگ، تخلیقی تحریر اور دیگر کئی پیچیدہ ٹاسکس انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو پہلے ممکن نہیں تھے۔
اوپن اے آئی کے تیار کردہ اس چیٹ بوٹ نے دنیا بھر کی بڑی کمپنیوں کو متاثر کیا ہے، جو اب اسی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے اور اپنے ڈیجیٹل نظاموں میں استعمال کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ صارفین کے لیے چیٹ جی پی ٹی ایک ایسا ذریعہ بن چکا ہے جہاں وہ مختلف موضوعات پر معلومات حاصل کر سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں، اور پیچیدہ مسائل کے حل تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
چیٹ جی پی ٹی کے نام میں چھپے ہر حرف کے پیچھے ایک مخصوص مطلب ہے۔ ‘جی’ سے مراد جنریٹیو ہے، یعنی یہ سسٹم نئے متن اور تناظر تخلیق کر سکتا ہے اور صرف موجودہ معلومات کا تجزیہ نہیں کرتا۔ جنریٹیو اے آئی ڈیپ لرننگ کے اصولوں پر کام کرتا ہے، جو انسانی دماغ کے طریقۂ کار سے متاثر ہے، اور اسی بنیاد پر یہ پلیٹ فارم انسانی طرز عمل کی مشابہت کے ساتھ جوابات فراہم کرتا ہے۔
‘پی’ سے مراد پری ٹرینڈ ہے، جو اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کو اربوں ویب صفحات اور دیگر ڈیٹا ذرائع سے تربیت دی گئی ہے۔ یہ تربیت اوپن کرول کے ڈیٹا سیٹ کے ذریعے حاصل کی گئی، جو 2008 سے مختلف ویب صفحات اکٹھا کرتا رہا، اور ماڈل انسانی فیڈ بیک کے ذریعے وقت کے ساتھ بہتر بھی ہوتا رہا۔
‘ٹی’ کا مطلب ٹرانسفارمر ہے، جو ایک نیورل نیٹ ورک ہے جو متن کو ٹوکنز میں تبدیل کر کے صارف کے سوالات کے مطابق جوابات پیدا کرتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے چیٹ جی پی ٹی بڑے زبان کے ماڈل کی حیثیت سے ڈیپ لرننگ اور نیورل نیٹ ورکس کو استعمال کرتا ہے اور پہلے سے موجود ڈیٹا کی بنیاد پر انسانی تعاملات کو سمجھنے اور جواب دینے کے قابل ہوتا ہے۔
چیٹ جی پی ٹی کے نام کے انتخاب کا فیصلہ بھی دلچسپ طریقے سے کیا گیا۔ ابتدائی طور پر اسے چیٹ ود جی پی ٹی 3.
یہ واضح ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نہ صرف اے آئی کی دنیا میں جدت کی علامت ہے بلکہ صارفین کے لیے معلومات تک رسائی، تخلیقی صلاحیتوں کی نشوونما اور پیچیدہ مسائل کے حل کے امکانات میں انقلاب کا سبب بھی بن چکا ہے۔ اس کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی انسانی زندگی کے ہر شعبے میں مؤثر انداز میں اپنا اثر دکھا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے کرتا ہے اے ا ئی
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ