استاد پر 55 برس تک بچوں کے جنسی استحصال کا الزام، حملوں کا ریکارڈ یو ایس بی میں محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
دنیا کے مختلف ممالک میں تدریسی فرائض انجام دینے والے ایک استاد پر الزام ہے کہ اس نے 3 براعظموں میں 55 سال سے زیادہ عرصے تک کم عمر بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا اور تفصیلات یو ایس بی ڈرائیو میں محفوظ رکھیں۔
فرانسیسی استغاثہ کے مطابق 79 سالہ شخص پر 1967 سے 2022 کے درمیان 89 کم سن افراد کے ساتھ زیادتی اور جنسی حملوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: بچے میری ریڈلائن، جنسی استحصال اور تشدد قبول نہیں، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ملزم ایک فری لانس ٹیوٹر تھا جو جرمنی، سوئٹزرلینڈ، مراکش، نائجر، الجزائر، فلپائن، بھارت، کولمبیا اور نیو کیلیڈونیا سمیت مختلف ممالک میں منتقل ہوتا رہا اور تدریسی ملازمتوں کے ذریعے نوعمر بچوں کے قریب رسائی حاصل کرتا تھا۔
پراسیکیوٹر نے صحافیوں کو بتایا کہ جہاں بھی وہ تدریس کے لیے مقیم ہوا، وہاں نوجوانوں سے تعلقات قائم کیے۔ مبینہ متاثرین کی عمریں 13 سے 17 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ملزم کے بھتیجے کو ایک یو ایس بی ڈرائیو ملی جس میں درجنوں ایسے جنسی حملوں کی تفصیلات درج تھیں۔
استغاثہ کے مطابق فائلیں کئی دہائیوں پر محیط مبینہ جرائم کا ذاتی ریکارڈ معلوم ہوتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ ڈرائیو میں تحریری اعترافات بھی موجود تھے جن میں دو قریبی رشتہ داروں کے قتل کا ذکر کیا گیا۔
تفتیش کاروں کے مطابق ملزم نے بعد ازاں اعتراف کیاکہ اس نے 1970 کی دہائی میں اپنی لاعلاج بیمار والدہ کو تکیے سے دم گھونٹ کر ہلاک کیا اور 1990 کی دہائی میں 92 سالہ پھوپھی کو نیند میں مار ڈالا۔
پولیس کو مبینہ طور پر اس نے بتایا کہ وہ ان اموات کو رحم کا عمل سمجھتا تھا۔
مزید پڑھیں: بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر و ویڈیو کا کاروبار، ’ایکس‘ کیسے استعمال ہو رہا ہے؟
اب تک 89 میں سے صرف 40 مبینہ متاثرین کی شناخت ہو سکی ہے۔ استغاثہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ متاثرین کی تعداد مزید ہو سکتی ہے اور دیگر افراد سے سامنے آنے کی اپیل کی ہے۔
فرانسیسی قانون کے تحت 1993 سے قبل ہونے والے جرائم پر مدتِ معیاد کے باعث مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ وہ مبینہ جرائم کے مکمل دائرہ کار کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق ملزم تاحال حراست میں ہے اور تفتیش جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews استاد بچوں کا جنسی استحصال تفتیش جاری ملزم گرفتار وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استاد بچوں کا جنسی استحصال تفتیش جاری ملزم گرفتار وی نیوز جنسی استحصال کے مطابق
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔