قومی اسمبلی، شہریت ترمیمی بل سمیت متعدد بلز ا کثریت سے منظور
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)قومی اسمبلی نے پاکستان شہریت ترمیمی بل ، بھنگ کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل اور نیشنل آرکائیوز ترمیمی بل سمیت دیگر کئی اہم بلز منظور کر لیے جس کے بعد اجلاس جمعرات کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اہم قانون سازی کی گئی، پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025 کثرتِ رائے سے منظور ہو گیا۔ بل کے تحت شہریت سے متعلق قانونی طریقہ کار کو مزید واضح اور باقاعدہ بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ ترمیمی بل میں پیدائش کے اندراج اور شہریت کے حصول کے طریقہ کار کو قانونی شکل دینے، زیرالتوا درخواستوں اور مقدمات کے حل کیلئے رہنمائی فراہم کرنے اور عدالتوں میں زیرسماعت معاملات پر نئے طریقہ کار کے اطلاق کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ والدین کے الفاظ کی تشریح اور شہریت کے تعین سے متعلق ابہام دور کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ شناختی دستاویزات میں والد کی بجائے والدین کا اندراج کیا جائے گا۔
اجلاس میں بھنگ کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل بھی کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔ بل کے مطابق عدالتی فیصلے کی روشنی میں وفاقی کابینہ اجتماعی طور پر صرف پالیسی اور مالیاتی فیصلے کرے گی، جبکہ انتظامی معاملات میں اختیارات متعلقہ اتھارٹی کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی اجلاس میں پاکستان کے نام اور نشانات کے غلط استعمال کی روک تھام کا بل بھی منظور کر لیا گیا۔
قومی اسمبلی نے نیشنل آرکائیوز ترمیمی بل دوہزار چھبیس بھی کثرتِ رائے سے منظور کیا، جبکہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل کی بھی منظوری دے دی گئی۔ بل کے مطابق معمولی اور غیر پالیسی معاملات بھی بار بار کابینہ کو بھیجے جانے سے غیر ضروری بوجھ اور انتظامی تاخیر پیدا ہو رہی ہے۔ وفاقی کابینہ قومی پالیسی اور اسٹریٹجک امور پر توجہ رکھے، جبکہ انتظامی اختیارات کابینہ کے بجائے متعلقہ اتھارٹی کو دیے جائیں۔ بل میں سپریم کورٹ کے مصطفیٰ امپیکس فیصلے کی روشنی میں اختیارات کی درست تقسیم کیلئے ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ ایکٹ میں وفاقی حکومت کی جگہ وزیراعظم کے الفاظ شامل کرنے کی منظوری دی گئی۔ بعد میں قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔