پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے چیف ایگزیکٹو فرخ سبزواری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جنوری 2026 میں یو آئی این نمبر 23 ہزار 400 کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اے آئی کے حوالے سے تھرڈ پارٹی کے ذریعے ڈیٹا وینڈنگ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ سونے کے ایکس چینج ٹریڈنگ فنڈ پر ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ کموڈٹیز پاکستان مرکنٹائل ایکس چینج کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔

فرخ سبزواری کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں ٹی پلس ون سے متعلق اقدامات ایک سال سے جاری تھے اور گزشتہ 25 سال میں ٹی پلس فائیو سے ٹی پلس ون تک پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی پلس ون کے پہلے سودوں کا کامیابی کے ساتھ تصفیہ ہو چکا ہے، جس کے لیے پاکستان اسٹاک ایکس چینج، ایس ای سی پی، این سی سی پی ایل اور سی ڈی سی کی ٹیموں نے مل کر کام کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹی پلس ون سیٹلمنٹ کی بدولت انویسٹرز کو لین دین کے اگلے ہی دن ڈلیوری مل جائے گی، تصفیوں میں تاخیر کم ہونے سے کریڈٹ رسک میں کمی اور مارکیٹ میں استحکام آئے گا، جبکہ ٹرانزیکشنز کی جلد تکمیل سے انویسٹرز کو اپنے فنڈز اور سیکیورٹیز تک فوری رسائی حاصل ہو گی۔ ٹی پلس ون سیٹلمنٹ سے کیپیٹل مارکیٹ میں سرمائے کے بہاؤ میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا، چین، کینیڈا، بھارت، میکسیکو، جمیکا اور ارجنٹائن پہلے ہی ٹی پلس ون نظام اپنا چکے ہیں۔

این سی سی پی ایل کے چیف ایگزیکٹو نوید قاضی نے کہا کہ پاکستان ٹی پلس ون سیٹلمنٹ سائیکل پر جانے والا آٹھواں ملک بن گیا ہے، جبکہ متعدد یورپی ممالک 2027 تک ٹی پلس ون میں شامل ہوں گے۔ ان کے مطابق ٹی پلس ون سے مارکیٹ کی کارکردگی اور سرمائے کے بہاؤ میں بہتری آئے گی اور شیئرز کی سیٹلمنٹ میں خدشات کم سے کم ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹی پلس ون کے لیے ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک سمیت درجنوں اداروں کی معاونت شامل رہی۔ ابتدائی مرحلے میں 93 کروڑ 10 لاکھ شیئرز کی لین دین ہوئی، مالیت 60 ارب روپے تھی جبکہ نیٹ آف مالیت 20 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔

سی ای او سینٹرل ڈپازٹری کمپنی بدیع الدین اکبر نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج اگرچہ ایک چھوٹی مارکیٹ ہے تاہم عالمی معیارات کے مطابق ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی ڈی سی کے پاس سیکیورٹیز کی مد میں 16 ہزار ارب روپے کے اثاثے ہیں، جبکہ میوچل فنڈز کے 4500 ارب روپے کے اثاثے بھی سی ڈی سی کے پاس ہیں۔ ان کے مطابق سی ڈی سی نے ٹی پلس ون سیٹلمنٹ کے تحت 48 گھنٹوں میں ایڈجسٹمنٹ کی ہے۔

سوالات کے جواب میں نوید قاضی نے کہا کہ ٹی پلس زیرو کے لیے آئی ٹی میں بھرپور جدت لانا ہو گی، چین کی کیپیٹل مارکیٹس جزوی طور پر ٹی پلس زیرو پر منتقل ہو چکی ہیں، جبکہ سیٹلمنٹ سائیکل کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے پیمنٹ سسٹم میں جدت لانا ہو گی۔

سوالات کے جواب میں فرخ سبزواری نے بتایا کہ رواں سال پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 12 نئی کمپنیوں کی لسٹنگ ہونے جا رہی ہے، جبکہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج نے ورلڈ فیڈریشن آف ایکسچینجز کی مکمل ممبرشپ بھی حاصل کر لی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان اسٹاک ایکس چینج انہوں نے بتایا کہ کہ ٹی پلس نے کہا کہ ارب روپے کے مطابق سی ڈی سی کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن