مصر اور عرب امارات کے صدور کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
متحدہ عرب امارات اور مصر کے صدور نے حال ہی میں اعلیٰ سطح ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور خطے کی موجودہ سیاسی صورتِ حال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات مشرقِ وسطیٰ میں استحکام، تجارت، سیکورٹی تعاون اور باہمی مفادات کے فروغ کے حوالے سے ایک سنگِ میل حیثیت رکھتی ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں صدور نے تجارت، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر اور سیکورٹی کے شعبوں میں باہمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ یو اے ای اور مصر نے خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی تعاون بڑھانے، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں اور اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے علاقائی چیلنجز، خطے میں سیاسی نشیب و فراز اور اقتصادی تعاون کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے باہمی مفادات کے تحت تعاون اور دوستی کو مزید فروغی دینے کے عزم کا اعادہ کیا، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں مثبت سفارتی پیش رفت کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
یو اے ای اور مصر کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی، اقتصادی اور سیکورٹی تعلقات خطے میں استحکام، ترقی اور باہمی تعاون کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے عوام اور بزنس کمیونٹیز کو فائدہ حاصل ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔