data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260212-01-21
ریاض /اوٹاوا /نیویارک /غزہ /تل ابیب / مقبوضہ بیت المقدس/وارسا (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں غزہ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری اور نفاذ پر زور دیا گیا، کابینہ کا کہنا تھا کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سیاسی حل تلاش کیا جائے۔ سعودی کابینہ نے اردن اور ترکیہ سے جوہری تعاون کے معاہدے پر مذاکرات اور قطر سے تیز رفتار الیکٹرک ریل معاہدے کی منظوری دی۔ امریکا کے بعد کینیڈا نے بھی مغربی کنارے پر کنٹرول بڑھانے کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کر دی۔کینیڈین وزارتِ خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی ریاست کا یہ اقدام عالمی اصولوں کے منافی ہے‘ اس اقدام سے خطے میں امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، مغربی کنارے کی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی ناقابل قبول ہے۔ امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے حماس کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے ایک امریکی منصوبے کے مسودے کا انکشاف کیا ہے، جس کا مقصد ان ہتھیاروں کو ختم کرنا ہے جو اسرائیل کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ حماس کو صرف کچھ ہلکا اسلحہ رکھنے کی اجازت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی بیورو کے رکن اور مقبوضہ بیت المقدس کے امور کے ذمہ دار ہارون ناصر الدین نے بدھ کورمضان المبارک کے دوران انتہا پسند ہیکل گروہوں کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر دھاواوں کی بڑھتی ہوئی اپیلوں پر ایک پریس بیان میں کہا کہ ان اپیلوں میں تیزی آنا ایک خطرناک اشتعال انگیزی ہے، جو مقدسات کے خلاف اسرائیل کی جاری مذہبی جنگ کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتہا پسند گروہوں کی جانب سے رمضان المبارک میں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے مطالبات مسلمانوں کے لیے سال کے سب سے مقدس مہینے میں اس مقام کے تقدس کو پامال کرنے کی مذموم کوشش ہے۔حماس کے رہنما نے اشارہ کیا کہ یہ سب کچھ اسرائیل کے اس یہود آبادکاری کے منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد مسجد اقصیٰ میں موجودہ تاریخی صورتحال کو تبدیل کرنا، اسے نمازیوں سے خالی کروانا اور طاقت کے بل بوتے پر اس کی زمانی و مکانی تقسیم کو مسلط کرنا ہے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیل کے نئے اقدامات یہودی بستیوں کی توسیع میں تیزی لانے کی راہ ہموار کر رہے ہیں جو فلسطینیوں کے مستقبل کو داؤ پر لگانے اور بین الاقوامی قانون کے منہ پر ایک نیا طمانچہ ہیں۔ ایجنسی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے کہا کہ یہ ایسے خطرناک رجحانات کو جنم دے رہے ہیں جن کے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہوں گے۔ مقبوضہ مغربی کنارے کے مشرقی شہر اریحا کے مغرب میں واقع گاؤں الدیوک التحتا میں بدھ کے روز مسلح انتہا پسند آباد کاروں نے ایک وحشیانہ حملے کے بعد 15 فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں سے جبری طور پر بے دخل کر دیا‘ آباد کاروں نے مقامی رہائشیوں کے سامان مویشیوں اور گاڑیوں پر قبضہ کر لیا اور انہیں اپنے گھروں کو واپس جانے سے روک دیا۔ غزہ کی پٹی کے متعدد علاقوں میں بدھ کو اسرائیلی فوج نے فضائی حملے اور توپ خانے سے شدید گولا باری کی، مسلسل 123 ویں روز بھی سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔طبی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ خان یونس شہر کے جنوب میں واقع علاقے بطن السمین میں فوج کی فائرنگ سے ایک بچہ زخمی ہو گیا۔ فوج نے مختلف علاقوں میں رہائشی مکانات کو بارود سے اڑانے کا سلسلہ جاری رکھا جس کے نتیجے میں رفح کراسنگ کے محدود پیمانے پر کھلنے کے باوجود انسانی تکالیف اور مصائب میں شدید اضافہ ہو رہا ہے‘ فوجی گاڑیوں نے شہر کے وسط میں شدید فائرنگ کی۔فلسطین کے صدر محمود عباس نے عبوری آئین کا مسودہ شائع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق فلطسین کے صدر محمود عباس کی طرف سے جاری صدارتی فیصلے کا مقصد آئینی دستاویز کی تیاری میں سماجی شرکت کے دائرے کو وسیع کرنا ہے جس کے تحت شہریوں، سول سوسائٹی کے اداروں، سیاسی قوتوں، تجزیہ کاروں اور ماہرین تعلیم کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ فیصلے کی اشاعت کی تاریخ سے60 دنوں کے دوران مسودے پر اپنے مشاہدات اور تجاویز پیش کریں۔ پولینڈ نے ٹرمپ کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے۔ پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں ان کا ملک اس غزہ بورڈ آف پیس کا کا رکن نہیں بنے گا‘ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نہایت حساس اور پیچیدہ ہے‘ انسانی بنیادوں پر امداد اور سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: معاہدے کی

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے