سعودی کابینہ :غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی پاسداری و نفاذ پر زور،کینیڈا کی مغربی کنارے پراسرائیلی قبضے کے فیصلے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260212-01-21
ریاض /اوٹاوا /نیویارک /غزہ /تل ابیب / مقبوضہ بیت المقدس/وارسا (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں غزہ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری اور نفاذ پر زور دیا گیا، کابینہ کا کہنا تھا کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سیاسی حل تلاش کیا جائے۔ سعودی کابینہ نے اردن اور ترکیہ سے جوہری تعاون کے معاہدے پر مذاکرات اور قطر سے تیز رفتار الیکٹرک ریل معاہدے کی منظوری دی۔ امریکا کے بعد کینیڈا نے بھی مغربی کنارے پر کنٹرول بڑھانے کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کر دی۔کینیڈین وزارتِ خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی ریاست کا یہ اقدام عالمی اصولوں کے منافی ہے‘ اس اقدام سے خطے میں امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، مغربی کنارے کی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی ناقابل قبول ہے۔ امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے حماس کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے ایک امریکی منصوبے کے مسودے کا انکشاف کیا ہے، جس کا مقصد ان ہتھیاروں کو ختم کرنا ہے جو اسرائیل کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ حماس کو صرف کچھ ہلکا اسلحہ رکھنے کی اجازت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی بیورو کے رکن اور مقبوضہ بیت المقدس کے امور کے ذمہ دار ہارون ناصر الدین نے بدھ کورمضان المبارک کے دوران انتہا پسند ہیکل گروہوں کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر دھاواوں کی بڑھتی ہوئی اپیلوں پر ایک پریس بیان میں کہا کہ ان اپیلوں میں تیزی آنا ایک خطرناک اشتعال انگیزی ہے، جو مقدسات کے خلاف اسرائیل کی جاری مذہبی جنگ کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتہا پسند گروہوں کی جانب سے رمضان المبارک میں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے مطالبات مسلمانوں کے لیے سال کے سب سے مقدس مہینے میں اس مقام کے تقدس کو پامال کرنے کی مذموم کوشش ہے۔حماس کے رہنما نے اشارہ کیا کہ یہ سب کچھ اسرائیل کے اس یہود آبادکاری کے منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد مسجد اقصیٰ میں موجودہ تاریخی صورتحال کو تبدیل کرنا، اسے نمازیوں سے خالی کروانا اور طاقت کے بل بوتے پر اس کی زمانی و مکانی تقسیم کو مسلط کرنا ہے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیل کے نئے اقدامات یہودی بستیوں کی توسیع میں تیزی لانے کی راہ ہموار کر رہے ہیں جو فلسطینیوں کے مستقبل کو داؤ پر لگانے اور بین الاقوامی قانون کے منہ پر ایک نیا طمانچہ ہیں۔ ایجنسی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے کہا کہ یہ ایسے خطرناک رجحانات کو جنم دے رہے ہیں جن کے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہوں گے۔ مقبوضہ مغربی کنارے کے مشرقی شہر اریحا کے مغرب میں واقع گاؤں الدیوک التحتا میں بدھ کے روز مسلح انتہا پسند آباد کاروں نے ایک وحشیانہ حملے کے بعد 15 فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں سے جبری طور پر بے دخل کر دیا‘ آباد کاروں نے مقامی رہائشیوں کے سامان مویشیوں اور گاڑیوں پر قبضہ کر لیا اور انہیں اپنے گھروں کو واپس جانے سے روک دیا۔ غزہ کی پٹی کے متعدد علاقوں میں بدھ کو اسرائیلی فوج نے فضائی حملے اور توپ خانے سے شدید گولا باری کی، مسلسل 123 ویں روز بھی سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔طبی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ خان یونس شہر کے جنوب میں واقع علاقے بطن السمین میں فوج کی فائرنگ سے ایک بچہ زخمی ہو گیا۔ فوج نے مختلف علاقوں میں رہائشی مکانات کو بارود سے اڑانے کا سلسلہ جاری رکھا جس کے نتیجے میں رفح کراسنگ کے محدود پیمانے پر کھلنے کے باوجود انسانی تکالیف اور مصائب میں شدید اضافہ ہو رہا ہے‘ فوجی گاڑیوں نے شہر کے وسط میں شدید فائرنگ کی۔فلسطین کے صدر محمود عباس نے عبوری آئین کا مسودہ شائع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق فلطسین کے صدر محمود عباس کی طرف سے جاری صدارتی فیصلے کا مقصد آئینی دستاویز کی تیاری میں سماجی شرکت کے دائرے کو وسیع کرنا ہے جس کے تحت شہریوں، سول سوسائٹی کے اداروں، سیاسی قوتوں، تجزیہ کاروں اور ماہرین تعلیم کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ فیصلے کی اشاعت کی تاریخ سے60 دنوں کے دوران مسودے پر اپنے مشاہدات اور تجاویز پیش کریں۔ پولینڈ نے ٹرمپ کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے۔ پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں ان کا ملک اس غزہ بورڈ آف پیس کا کا رکن نہیں بنے گا‘ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نہایت حساس اور پیچیدہ ہے‘ انسانی بنیادوں پر امداد اور سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: معاہدے کی
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔