صدر زرداری کا خواتین سائنسدانوں کو خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260212-08-13
اسلام آباد (صباح نیوز) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے “سائنس میں خواتین اور لڑکیوں کے عالمی دن” کے موقع پر پاکستانی خواتین کی سائنسی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں روشن مستقبل کی علامت قرار دیا ہے۔ ایوانِ صدر سے جاری بیان میں صدر نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ ملک کی جامعات میں طالبات کا تناسب 50 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے، جو انجینئرنگ، طب اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تحقیق کی قیادت کر رہی ہیں۔ ساتھ ہی صدرِ مملکت نے برادر ملک ایران کو 47 ویں جشنِ انقلاب اور جاپان کو قومی دن کے موقع پر تہنیتی خطوط ارسال کر کے دیرینہ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔صدر زرداری نے اپنے پیغام میں عالمی شہرت یافتہ پاکستانی سائنسدانوں نرگس ماولوالا، تسنیم زہرا حسین اور مہیرہ عبدالغنی کی کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پیش رفت سے صحت اور ماحولیات کے شعبوں میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے مسلم دنیا میں سائنسی تعاون کے لیے COMSTECH کے پلیٹ فارم پر خواتین کے کردار کو بھی سراہا۔ علاوہ ازیں، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور جاپانی شہنشاہ ناروہیٹو کے نام الگ الگ پیغامات میں صدر نے دو طرفہ تعلقات کی پختگی، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔