Jasarat News:
2026-07-24@02:13:45 GMT

خود مختار مقامی حکومتیں

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260212-03-3
پاکستان میں اس نقطے پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ہم حکمرانی یا گورننس کے بحران سے دوچار ہیں۔ اگرچہ ہم نے گورننس کے بحران کے حل کے لیے 2010 میں اٹھارویں ترمیم منظور کی تھی تا کہ وفاق سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات صوبوں کو منتقل کرے گا اور صوبے اضلاع سمیت تحصیل کی سطح پر اختیارات کی تقسیم کو یقینی بنا کر گورننس کے نظام میں بہتری پیدا کریں گے۔ لیکن اٹھارویں ترمیم اور صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کے باوجود صوبے اپنی کارکردگی میں بہتری پیدا نہیں کر سکے۔ پہلے ہم وفاقی سطح پر مرکزیت کے نظام کا شکار تھے اور اب صوبائی مرکزیت کے نظام کا شکار نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چاروں صوبوں میں مقامی حکومتوں پر صوبائی حکومتوں کا مکمل کنٹرول نظر آتا ہے۔ جبکہ باقی صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں تو مقامی حکومتوں کے انتخابات آخری بار 2015 میں منعقد ہوئے تھے۔ ابھی حال ہی میں کوئٹہ اور اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات بھی صوبائی اور مرکزی حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو موخر کرنے پڑے۔ پنجاب میں بھی بلدیاتی ایکٹ 2025 کی منظوری کے باوجود یہاں انتخابات کا مستقبل مخدوش نظر آتا ہے۔ کیونکہ صوبائی حکومتیں کسی بھی سطح پر مضبوط اور خود مختار مقامی حکومتوں کے نظام کو پسند نہیں کرتیں یا وہ اس نظام کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتی ہیں۔ اسی وجہ سے مقامی حکومتوں کے قیام کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اگر عدالتی حکم کی وجہ سے کہیں انتخابات کروانے بھی پڑے تو ان کو اختیارات سے محروم رکھا جاتا ہے۔ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ صوبائی حکومتوں نے مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانے کے بجائے متبادل کمپنیوں اور اتھارٹیوں کا نظام بنا لیا ہے جس کا کنٹرول صوبائی حکومتوں کے پاس ہے جو مقامی حکومتوں کے نظام کو غیر موثر کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 140 اے، 32 اور آرٹیکل سات مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔ لیکن آئین کے بے شمار قانونی سقم کی وجہ سے صوبائی حکومتیں آئین شکنی کی مرتکب ہوتی ہیں اور ان کو کسی بھی سطح پر جواب دے نہیں بنایا جا سکتا۔ مثال کے طور پر پنجاب میں آخری انتخابات 2015 میں منعقد ہوئے تھے اور آج 2026 ہے۔ صوبائی حکومتوں کو مقامی حکومتوں کے انتخابات کے لیے کیسے پابند بنایا جائے اس پر آئین خاموش نظر آتا ہے اور عدالتوں نے بھی صوبائی حکومتوں کو ریلیف دے کر معاملات کو اور زیادہ خراب کیا ہے۔ آئین میں مقامی حکومتوں کا کوئی وفاقی فریم ورک موجود نہیں ہے کہ صوبے کس طرز کا نظام تشکیل دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف صوبوں میں ہمیں بلدیاتی نظام میں تضادات اور ٹکراؤنظر آتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی کے لیے آئین میں موجود سقم کے خاتمے کے لیے آئینی ترامیم کا پیکیج درکار ہے۔ بھارت کے آئین میں ایک مکمل باب مقامی حکومتوں کے بارے میں ہے جس میں وضاحت کے ساتھ اس نظام کی تشکیل اور طریقہ کار موجود ہے۔ ہمیں بھی اپنے آئین میں مقامی حکومتوں کے نظام کی خود مختاری اور مضبوطی کے لیے بھارت کے آئین سے مدد لینی چاہیے۔ ایک مسئلہ مقامی حکومتوں کے تسلسل کا بھی ہے اور یہ تسلسل بھی اسی صورت میں پیدا ہوگا جب ہمارے پاس وفاقی سطح پر بھی کوئی آئینی اور قانونی فریم ورک موجود ہوگا۔ ہمارے ہاں بعض سیاسی جماعتیں مقامی حکومتوں میں وفاقی حکومت کی مداخلت کو صوبائی خود مختاری کے مخالف سمجھتی ہیں۔ حالانکہ صوبائی خود مختاری اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک مقامی حکومتوں کی خود مختاری کو ممکن نہیں بنایا جائے گا۔ اس لیے اگر وفاقی سطح پر مقامی حکومتوں کا کوئی فریم ورک بنتا ہے تو اس سے صوبائی خود مختاری کے خلاف کچھ نہیں ہوگا۔ مقامی حکومتوں کے نظام میں ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کو ختم کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہیں جس سے یہ نظام متاثر ہوتا ہے۔ ارکان قومی اسمبلی ترقیاتی فنڈ کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور دوسری طرف بیوروکریسی مقامی سطح پر اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کی خواہش مند ہوتی ہے۔ آج کی دنیا میں حکمرانی کے نظام کی جو جدت آئی ہے اس میں سب سے زیادہ توجہ اختیارات کی تقسیم کو دی جاتی ہے۔ جیسے عرض کیا کہ پنجاب میں مقامی حکومتوں کا نظام اس وقت موجود ہی نہیں ہے لیکن جن صوبوں میں مقامی حکومتوں کا نظام موجود بھی ہے وہاں پر بھی لوگوں کے بنیادی مسائل حل ہونے کے بجائے ان میں اور زیادہ بگاڑ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہروں کے مسائل بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ عالمی ترقیاتی ادارے بھی بار بار پاکستان میں گورننس کے مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں اور ان کے بقول اگر پاکستان نے گورننس کے بحران پر قابو نہ پایا تو وہ سیاسی اور معاشی طور پر آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا کام قانون سازی تک محدود ہونا چاہیے اور ملک میں ترقیاتی کاموں کی براہ راست ذمے داری مقامی حکومتوں کی ہونا چاہیے۔ عمومی طور پر ہم مقامی حکومتوں کو جمہوریت کی بنیادی نرسریاں کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ نظام نچلی سطح سے صوبائی اور مقامی قیادت کو پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ ایسے میں ہماری قومی ترجیحات کا تعین مقامی حکومتوں کے نظام کے ساتھ براہ راست جڑا ہونا چاہیے۔ لیکن ہم اس نظام کو نظر انداز کر کے آگے بڑھنا چاہتے ہیں اس روش نے ہمارے مسائل اور بڑھا دیے ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان نے اس وقت پنجاب میں بلدیاتی ایکٹ 2025 کے خلاف مہم چلا رہی ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ پنجاب کا موجودہ ایکٹ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے اور ساتھ ساتھ وہ انتخابات کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ اس سے قبل جماعت اسلامی کراچی کے اندر بھی ایک مضبوط اور خود مختار مقامی حکومتوں کے نظام کی بحث کو آگے بڑھاتی رہی ہے۔ یہ بات سمجھنی ہوگی کہ مقامی حکومتوں کی خود مختاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایک وفاقی فریم ورک کی عدم موجودگی ہے اور اس کے لیے آئین کے اندر ترامیم کرنی ہوں گی جو مقامی حکومتوں کے نظام کو آئینی تحفظ دے سکیں۔ مثال کے طور پر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں ختم ہوتی ہیں تو یہ آئینی تقاضا ہے کہ 90 دن کے اندر اندر انتخابات کو لازمی کرانا ہوتا ہے۔ لیکن جب مقامی حکومتیں ختم کی جاتی ہیں تو ہمارے آئین میں اس طرح کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وہ مخصوص دن میں مقامی حکومتوں کی دوبارہ تشکیل کو یقینی بنا سکیں۔ تعلیم، صحت، صاف پانی اور سیوریج جیسے بنیادی نوعیت کے مسائل لوگوں کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ کراچی اور لاہور میں ترقیاتی کاموں کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی غیر قانونی ہے۔اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات براہ راست ہوں کیونکہ چور دروازوں سے میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات کرپشن کی سیاست کو جنم دینے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ انتخابات خالصتاً جماعتی بنیادوں پر ہونے چاہییں وگرنہ غیر جماعتی طرز کے انتخابات برادری ازم کو مضبوط کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ صوبائی حکومتوں کی تشکیل کے 120 دن کے اندر اندر مقامی حکومتوں کے الیکشن کرانے کی پابند ہوں۔ اسی طرح قومی اور صوبائی اسمبلی سمیت مقامی حکومتوں کی مدت بھی ایک جیسی ہونی چاہیے۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ صوبائی فناننس کمیشن میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وسائل کی تقسیم تمام اصلاع کی سطح پر اور بالخصوص کمزور اضلاع میں زیادہ ترجیح بنیادوں پر کی جائے گی تاکہ ترقی کا عمل کمزور علاقوں میں زیادہ مضبوط بنیادوں پر سامنے آ سکے۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مقامی حکومتوں کے نظام کو مقامی حکومتوں کے نظام کی میں مقامی حکومتوں مقامی حکومتوں کا مقامی حکومتوں کی صوبائی حکومتوں کے انتخابات حکومتوں کو نظر ا تا ہے خود مختاری گورننس کے کہ صوبائی نہیں ہے کے اندر کا نظام ہیں اور بھی ہے رہا ہے کا سبب ہے اور کے لیے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ