data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

موغادیشو (انٹرنیشنل ڈیسک) صومالیہ میں مسافر طیارے نے ساحل پر کریش لینڈنگ کی تاہم طیارے میں سوار تمام مسافر اور عملہ محفوظ رہا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ایک مسافر طیارہ اْڑان بھرنے کے تقریباً 15منٹ بعد تکنیکی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہوگیا۔تاہم خوش قسمتی سے طیارے میں سوار تمام مسافر اور عملہ محفوظ رہے۔ طیارہ موغادیشو سے شہر گوریل جا رہا تھا کہ پرواز کے دوران فنی خرابی پیدا ہوگئی۔صورتحال کے پیش نظر پائلٹ نے فوری طور پر طیارہ واپس موغادیشو ائرپورٹ لانے کی کوشش کی، مگر طیارہ مکمل طور پر قابو میں نہ رہ سکا اور ائرپورٹ کے قریب ساحلی علاقے میں گر گیا۔حکام کا کہنا تھا کہ طیارے میں عملے کے 5ارکان سمیت مجموعی طور پر 55 افراد سوار تھے، جو معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ واقعے کے بعد ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور مسافروں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا، جبکہ متعلقہ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے تاکہ خرابی کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت