آج سے ہر سطح پر ہمیں نیا بنگلادیش بنانے کا موقع ملے گا: محمد یونس
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنگلا دیش میں عام انتخابات کے دن کو ملکی تاریخ کا ایک نئے باب کا آغاز قرار دیتے ہوئے بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے کہا ہے کہ آج کا دن قوم کو ہر سطح پر ایک نیا بنگلادیش تشکیل دینے کا نادر موقع فراہم کر رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے ڈھاکا کے علاقے گلشن میں قائم ماڈل اسکول کے پولنگ اسٹیشن میں اپنا ووٹ ڈالا، جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے ساتھ ووٹنگ کا عمل منظم اور پُرامن انداز میں جاری ہے۔
ڈھاکا میں ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے عوام پر زور دیا کہ وہ نہ صرف پارلیمانی انتخابات بلکہ ریفرنڈم میں بھی بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں، کیونکہ دونوں مراحل ملک کے سیاسی مستقبل کے تعین میں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔
پروفیسر محمد یونس کا کہنا تھا کہ یہ دن محض ایک انتخابی مرحلہ نہیں بلکہ آزادی، خودمختاری اور نئے خوابوں کی تعبیر کی علامت ہے، یہ وہ موقع ہے جب پوری قوم مل کر ایک نئے بنگلادیش کی بنیاد رکھ سکتی ہے، جہاں شفافیت، انصاف اور ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔
انہوں نے شہریوں کو دعوت دی کہ وہ اس تاریخی لمحے کو ایک طویل جشن کی صورت میں منائیں اور آج کے دن کو ایک نئی قومی سالگرہ سمجھیں۔
واضح رہے کہ بنگلا دیش میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے، جس میں 50 سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں، 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، جن میں تقریباً 44 فیصد نوجوان شامل ہیں، ملک بھر کے 299 حلقوں میں پولنگ کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے ہوا تھا، جو شام ساڑھے چار بجے تک جاری رہے گی۔
انتخابی عمل کے دوران مجموعی طور پر 1981 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 250 سے زائد آزاد حیثیت میں مقابلہ کر رہے ہیں جبکہ پولنگ کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ملک بھر میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے، اس کے علاوہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے تین روز کے لیے موٹر سائیکل کی سواری پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
بنگلادیش میں قومی پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں کیے گئے حالیہ عوامی سروے کے نتائج نے سیاسی منظرنامے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے، جہاں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم انتخابی اتحاد کے درمیان انتہائی سخت اور کانٹے دار مقابلے کی پیشگوئی سامنے آئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پروفیسر محمد یونس کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔