البانیہ کی اے آئی ’وزیر‘ کے پیچھے اداکارہ کی اپنی شناخت کے استعمال پر قانونی جنگ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
البانیہ کی ایک معروف اداکارہ نے حکومت کی جانب سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی چیٹ بوٹ میں ان کے چہرے اور آواز کے استعمال پر شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے استحصال قرار دیا ہے اور عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔
البانیہ کے وزیراعظم نے ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ ایک اے آئی سسٹم، جسے ڈیئیلا (Diella) کا نام دیا گیا ہے، وہ عوامی ٹینڈرز کے نئے پورٹ فولیو کی نگرانی بطور وزیر کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے کرپشن میں کمی لانے میں مدد ملے گی، تاہم اپوزیشن جماعتوں اور ماہرین کی جانب سے اس فیصلے پر تنقید کی گئی اور نظام کی شفافیت اور جوابدہی پر سوالات اٹھائے گئے۔
معروف البانوی اداکارہ انیلا بشا جن کے چہرے اور آواز کو استعمال کر کے ڈیئیلا کا اوتار تیار کیا گیا، انہوں نے کہا ہے کہ میں نے اپنی شناخت کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔
57 سالہ اداکارہ کے مطابق میں نے اس ہفتے کے آغاز میں عدالت میں درخواست دائر کی ہے جس میں میری تصویر اور شناخت کے استعمال کو فوری طور پر معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ میری شناخت اور ذاتی ڈیٹا کا استحصال ہے۔
اداکارہ کے مطابق میں نے ابتدا میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت 2025ء کے اختتام تک میری تصویر کو سرکاری آن لائن سروسز پورٹل پر ایک ورچوئل اسسٹنٹ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم بعد ازاں حکومت کی جانب سے ڈیئیلا کو وزیر بنانے کے اعلان کے بعد ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں کمپیوٹر سے تیار کردہ ان کا ورچوئل کردار پارلیمنٹ سے خطاب کرتا دکھائی دیا۔
اس ویڈیو میں روایتی البانوی لباس میں ملبوس خاتون کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ وہ انسانوں کی جگہ لینے نہیں آئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔