میانوالی نے 4 سال پنجاب اور پاکستان پر حکومت کی لیکن یہاں ترقی نہ آسکی: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نے کہا ہے ہےکہ میانوالی نے 4 سال پنجاب اور پاکستان پر حکومت کی لیکن یہاں ترقی نہ آسکی۔میانوالی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ وہ دن چلے گئے جب لوگ میانوالی سے ووٹ لے کر چلے جاتے تھے، جو لوگ کہتے تھے کہ (ن) لیگ کے دور میں صرف لاہور میں ترقی ہوئی وہ میانوالی کو دیکھ لیں۔انہوں نے کہا کہ گرین بس اور میڈیکل اسپتال سمیت جو سہولیات لاہور میں ہیں وہ ہی میانوالی کو بھی دی ہے، دعوؤں پر نہیں عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہوں، اللہ تعالی نے تین سال اور دیے تو پنجاب کی قسمت بدل جائے گی، میانوالی اب محروم نہیں رہے گا۔مریم نواز نے عمران خان کا نام لیے بغیر طنز کیا کہ میانوالی نے 4 سال پنجاب اور پاکستان پر حکومت کی لیکن یہاں ترقی نہ آسکی لہٰذا میانوالی والوں اب کی بار کسی فراڈ کو ووٹ مت دینا۔اس کے علاوہ مریم نواز نے میانوالی میں کالج آف الائیڈ پرفیشنلز ، زرعی اور لا کالج بنانے کا اعلان بھی کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔