عنوان: جنت ایک درخت کی آغوش میں
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
عنوان: جنت ایک درخت کی آغوش میں WhatsAppFacebookTwitter 0 12 February, 2026 سب نیوز
حلیمہ حفیظ
سابق پرائم منسٹر اسٹیٹ یوتھ اسمبلی
اللہ تعالی نے انسان کی مٹی سے ایسی صورت گری کی کہ اسے دیکھنے ،سننے،محسوس کرنے، کھانے ،پینے کے لئے مختلف اعضاء عطا فرمائے، اس مٹی کے مجسمے میں روح پھونکی، عقل و شعور سے نوازا اور پھر اشرف المخلوقات کا لقب دے کر دنیا میں بھیجا۔
آخر کیوں؟
ہم میں سے بہت کم لوگوں نے یہ سوال واقعی سوچا، جنہوں نے سوچا، وہ شاید سمجھ نہ سکے، اور جو سمجھ گئے، وہ امر ہو گئے۔
آئیے آج ہم بھی مل کر سوچیں :
اللہ تعالٰی نے ہمیں دنیا میں ایک واضح مقصد دے کر بھیجا۔ بے شمار خوبیوں سے لبریز انسان کو جنت سے نکال کر زمین پر اتارا تاکہ ہم زمین پر ایک جنت آباد کر سکیں۔
جیسا کہ علامہ اقبال نے فرمایا:
از محبت چوں خودی محکم شود قوتش فرماں دہ عالم شود
(محبت سے خودی مضبوط ہوتی ہے، تو اس کی قوت عالم پر فرمانروا ہو جاتی ہے۔)
لیکن بحیثیت انسان ہم سب نے اپنے مقصد سے غداری کی، اپنے مقصد کو بھول کر ہم دنیا کی رعنائیوں میں گم ہو گئے۔ دنیا کی رعنائیوں نے ہمیں اس قدراپناگرویدہ بنالیا کہ ہم اپنا مقصد ہی بھول بیٹھے، جس زمین کو ہم نے جنت بنانا تھا اسکو ہم سب نے مل کر جہنم سے برا مسکن بنا دیا، ہم نے ایک دوسرے کے لئے زمین تنگ کر دی حتکہ ہم انسانیت کے نام پر دھبہ بن گئے۔
جہاں ہم سب انسانیت کا مطلب بھول بیٹھے تھے وہیں روشنی کی ایک کرن بھی موجود ہے۔
ہم جیسے چند انسانوں نے حقیقت میں دنیا میں جنت آباد کرنےکا عزم کر لیا۔
آزادکشمیر کے ضلع میرپور، تحصیل ڈدیال کے ایک گاؤں پچوانہ میں وہاں کے لوگوں نے ایک بڑے درخت کے سائے میں ایک چھوٹی سی جنت آباد کر رکھی ہے۔
یہ جنت دو بڑے اصولوں ” معافی اور مکالمہ” پر قائم ہوئی جو کہ ” پچوانہ کی جنت” اور “مثالی معاشرہ” کے نام سے جانی جاتی ہے۔
یہ جنت دو زریں اصولوں پر قائم ہے: معافی اور مکالمہ۔
جیسا کہ شاعر کہتے ہیں:
خطا معاف ترا عفو بھی ہے مثل سزا
(غلطی معاف کر، تیری معافی سزا کی مانند ہے — یعنی معافی کی قدر سزا سے بھی بڑھ کر ہے۔)
یہاں ہر ماہ کے پہلے ہفتہ کے روز ایک عظیم محفل سجائی جاتی ہے اس محفل میں بزرگ ،مرد و خواتین ،بچے اور باہر سے آئے ہوئے مہمان سب اکٹھے ہوتے ہیں ۔
مکالمہ ہوتا ہے، دل کھول کر باتیں کی جاتی ہیں ، غلطیوں پر معافی مانگی جاتی ہے، معاف کیا جاتا ہے، سب مل کر کھانا بناتے ہیں اور ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھاتے ہیں۔
یہ محض کوئی روایت نہیں ہے بلکہ انسانیت کی ایک زندہ داستان ہے۔
محبت ،بھائی چارے، برداشت ،رواداری اور حسن سلوک کی بنیاد پر لکھی گئی یہ ان لوگوں کی کہانی ہے جو اصل میں انسانیت کا حق ادا کر نے کی جدوجہد کررہے ہیں۔ وہاں کے بڑے ،بچوں کے لئے خون جگر سے ایک تاریخ رقم کر رہے ہیں، ایک مثال قائم کر رہے ہیں، ایک روایت کے طور پر دنیا میں جنت کا تصور چھوڑ رہے ہیں کہ آنے والی نسلیں اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے زمین کو محبت بھرا مسکن بنا سکیں۔
ذرا غور کریں:
ہم اپنی نسلوں کے لئے کیا چھوڑ کے جا رہے ہیں؟
بنگلہ، گاڑی ،بینک بیلینس، زمینیں، اور جائیدادیں بس؟
کیا یہ سب چیزیں آپکے اور ہمارے بچوں کی پرسکون اور خوشیوں بھری زندگی کے لئے کافی ہے؟؟
اگر یہ سب چیزیں کافی ہوں تو پھر اونچے مکانوں کے، کشادہ کمروں میں نرم بستروں پر لیٹا انسان کیوں ڈپریشن اور انزائٹی کا شکار رہتا ہے؟
دنیا کی ہر آسائش میں جیتے انسان کی لاش مہینوں بڑے عالیشان گھر میں کیوں پڑی رہتی ہے؟
آج اولاد کے ہوتے ہوئے والدین اولڈ ہوم میں کیوں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں؟
اس لئے کہ ہم نے اپنی نسلوں کو انسانیت کا درس دینے کی بجائے دنیاوی نام نہاد آسائشوں کے پیچھے لگا دیا۔
اقبال کہتے ہیں:
ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
اُخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا
ہمیں سمجھنا ہو گا کہ ہمارا دنیا میں آنے کا مقصد کیا تھا، ہم جس دوڑ میں لگ چکے ہیں یہ ہماری حقیقت نہیں ہے ہم نے مل جل کے رہنا تھا، برداشت ،امن ،بھائی چارے سے پھر ایک جنت آباد کرنی تھی۔
آئیے !
اب بھی وقت ہے۔
ہم بھی ” پچوانہ کی جنت” جیسا ماڈل اپنا کر اپنے اردگرد چھوٹی چھوٹی جنتیں آباد کریں، تاکہ زندگی اصل معنوں میں خوبصورت ہو سکے، اور جب ہم اس دنیا سے جائیں تو دل اس بات سے مطمئن ہو کہ ہم اپنی نسلوں کے لئے ایک پر امن اور محفوظ معاشرہ چھوڑ کر جا رہے ہیں اور دنیا میں آنے کا مقصد بھی پورا کر چکے ہیں۔
ایک چڑیا کا واقع یاد آتا ہے:
آگ لگی ہوئی تھی۔ چڑیا چونچ میں پانی بھر کر لاتی اور آگ پر ڈالتی، کسی نے کہا : تم تو آگ نہیں بجھا سکتی پھر کیوں تھک رہی ہو۔
چڑیا نے بہت خوبصورت جواب دیا :
کہ جب بروز حشر آگ لگانے والوں اور آگ بجھانے والوں کی فہرست بنے گی تو میرا نام، آگ بجھانے والوں میں ہو گا ،آگ لگانے والوں میں نہیں۔
آئیے! ہم بھی اس خوبصورت سفر کا حصہ بن کر نفسا نفسی کی اس آگ کو بجھانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
_ ہمارا پیغام محبت ہے_ *جہاں تک پہنچے
جیسا کہ شاعر کہتے ہیں:
*یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
اُخوت کی جہانگیری، محبت کی فراوانی
بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر، ملت میں گم ہو جا*
آخر پر میں سلام عقیدت پیش کرنا چاہوں گی پچوانہ کے لوگوں کو جنہوں نے نفسا نفسی کے اس عالم میں مجموعی مفاد کو مدنظر رکھا، اپنے مقصد کو پہچانا، اپنے خون جگر سے وہ دیا جلایا جو جلد پورے عالم میں روشنی کا باعث بنے گا۔ انشاءاللہ
اللہ تعالی ہم سب کو صحیح معنوں میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی توفیق دے۔
آمین۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسال 2026 کا پہلا سی ڈی اے بورڈ اجلاس، متعدد منصوبوں کی منظوری ریاستی اختیار اور انتظامی ذمہ داری فیفا ورلڈ کپ 2026 کا جادوئی جوش: ڈسکوری گرین پارک میں دیوہیکل ٹرافی نے ہیوسٹن کو رونق دے دی روڈ آئی لینڈ: سمندری ریاست الینوائے:– جہاں وسیع میدانوں کی ہریالی، شیکاگو کی آسمان چھوتی عمارتیں، زرعی دولت، مالیاتی طاقت، صنعتی میراث، ثقافتی تنوع، اور اب تیزی سے ابھرتی... ایک تاریخی دورہ: ازبکستان اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے نئے افق فلوریڈا: سورج کی ریاست – جہاں ہر صبح سنہری دھوپ نئی امید اور تازگی کا احساس دل میں اترتی ہے، سفید ریتلے ساحل پر...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے
قدیم چینی انجینیئرنگ کا ایک نادر شاہکار ایک بار پھر دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ قدیم چینی انجینیئر کی جانب سے بنایا گیا ایسا پزل ’تالا‘ جس نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا ہے، 2 ہزار سال سے زیادہ پرانی شاندار انجینیئرنگ کا یہ شاہکار ایسا ہے کہ اسے کھولنے کے لیے محض تالا ہی نہیں ذہانت اور بڑا دماغ بھی چاہیے۔
چینی پزل تالا اپنی پیچیدہ ساخت اور غیر معمولی سیکیورٹی نظام کی بدولت سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے، جہاں صارفین اس کی انجینیئرنگ اور ڈیزائن کو حیرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
This ancient Chinese lock is to hard to unlock pic.twitter.com/8xcgM5BR94
— TrendSphere360 (@BraveSoulsSpace) July 23, 2026
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں پیتل کی رنگت والے قدیم تالے کو ایک خاص شکل کی چابی کے ذریعے کھولتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں واضح ہے کہ صرف درست چابی ہونا کافی نہیں بلکہ تالے کو کھولنے کے لیے مخصوص ترتیب، مہارت اور میکانیکی سمجھ اور بڑا دماغ بھی ضروری ہے۔
صرف چابی نہیں، درست طریقہ بھی ضرورییہ تالاعام تالوں کی طرح صرف چابی گھمانے سے نہیں کھلتا بلکہ ایک مکمل پزل کی صورت میں تیار کیا گیا ہے۔ اسے کھولنے کے لیے ‘T’ یا ‘L’ نما چابی کو مخصوص سلاٹس میں داخل کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بشام میں چینی انجینیئرز پر حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، وزیر داخلہ نے تفصیلات سامنے رکھ دیں
پھر اسے پوشیدہ راستوں کے اندر مختلف زاویوں سے سلائیڈ اور موڑا جاتا ہے۔ تمام مراحل درست ترتیب سے مکمل ہونے کے بعد ہی تالے کا شیکل آزاد ہوتا ہے اورتالاکھلتا ہے۔ یہی پیچیدہ طریقہ کار اسے روایتی تالوں سے منفرد بناتا ہے اور اس کی سیکیورٹی کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
قدیم انجینیئرنگ کا منفرد نمونہتاریخی حوالوں کے مطابق ان تالوں کو ‘کمپلیکس پزل لاکس’، ‘یوکیوو لاکس’، ‘چائنیز پیڈ لاکس’ یا ‘میز لاکس’ بھی کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دو ہزار سال سے زیادہ پرانی چینی انجینیئرنگ اور دھات سازی کی اعلیٰ مثالیں ہیں۔
عام پن ٹمبلر یا مغربی تالوں کے برعکس ان میں پوشیدہ کی ہولز، سلائیڈنگ بارز، اسپرنگز، ملٹی اسٹیج رکاوٹیں اور پیچیدہ اندرونی راستے بنائے جاتے تھے، جنہیں عبور کرنے کے لیے نہ صرف درست چابی بلکہ اس کے استعمال کی مکمل ترتیب جاننا بھی ضروری ہوتا تھا۔
مختلف اقسام اور منفرد چابیاںماہرین نے ان قدیم تالوں کو کئی اقسام میں تقسیم کیا ہے، جن میں اضافی رکاوٹ والے تالے، میز لاکس، دو حصوں والے تالے اور پوشیدہ کی ہول والے تالے شامل ہیں۔
ان تالوں کی چابیاں بھی عام چابیوں سے مختلف ہوتی تھیں۔ انہیں مخصوص موڑ، کٹاؤ، نوچوں اور منفرد ساخت کے ساتھ تیار کیا جاتا تھا تاکہ وہ صرف متعلقہ تالے کے اندرونی میکانزم کے مطابق ہی حرکت کر سکیں۔
مزید پڑھیں:فِلنگ اور امپلانٹس کا دور ختم ہونے والا ہے؟ سائنسدان انسانی دانت دوبارہ اگانے کے نزدیک
بعض ڈیزائن قدیم ثقافتی اثرات، خصوصاً بڑے لوہے کے تالوں پر ممکنہ عربی اثرات سے متاثر تھے، تاہم چینی کاریگروں نے انہیں پزل نما انداز دے کر منفرد شناخت فراہم کی۔
صرف سیکیورٹی نہیں، ذہنی تربیت بھییہ تالے قیمتی اشیا، صندوقوں، دروازوں اور دیگر سامان کی حفاظت کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ ان کی پیچیدگی کی وجہ سے اگر کسی شخص کے پاس چابی بھی موجود ہوتی تو بھی وہ درست طریقہ کار جانے بغیرتالا نہیں کھول سکتا تھا، جس سے چوری کے امکانات کم ہو جاتے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تالوں کا مقصد صرف حفاظت فراہم کرنا نہیں تھا بلکہ یہ میکانیکی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور تخلیقی ذہن کی تربیت کا ذریعہ بھی تھے، بالکل اسی طرح جیسے آج کے جدید پزل باکسز۔
تحریری ریکارڈ کم، دلچسپی زیادہتاریخی ماہرین کے مطابق ان میں سے بیشتر تالے عام لوہار تیار کرتے تھے اور اس دور میں انہیں کسی مخصوص برانڈ یا نام سے منسوب نہیں کیا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے ان کی تیاری کے طریقہ کار اور تکنیکی تفصیلات پر تحریری مواد نہایت محدود ہے، جس نے آج بھی انہیں ایک پراسرار حیثیت دے رکھی ہے۔
جدید انجینیئرنگ کے لیے بھی دلچسپی کا باعثسائنسی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ ان قدیم تالوں کا ڈھانچہ موجودہ دور کے بیشتر تالوں سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ اگرچہ ان کی ساخت نسبتاً سادہ دکھائی دیتی ہے، لیکن ان کے اندر موجود میکانزم آج کے انجینیئرز کے لیے بھی تحقیق اور دلچسپی کا موضوع ہے۔
مزید پڑھیں:ہواوے کا نئی اسمارٹ فون چِپ لانچ کرنے کا اعلان، اینویڈیا اور ایپل سے مقابلہ مزید تیز
ماہرین کے مطابق یہ قدیم چینی پزل لاکس اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ صنعتی دور سے کئی صدیوں پہلے بھی انجینیئرنگ، دھات سازی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں غیر معمولی مہارت موجود تھی۔
قدیم چین میں ایسے پزل تالے نہ صرف قیمتی سامان کی حفاظت کے لیے استعمال ہوتے تھے بلکہ انہیں ذہانت، مہارت اور فنی تخلیق کا مظہر بھی سمجھا جاتا تھا۔
آج سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ہزاروں سال پرانی انجینیئرنگ بھی جدید دور کے انسان کو حیران اور متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ان تالوں کی پیچیدہ ساخت اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ قدیم تہذیبوں کی سائنسی اور فنی مہارت اپنے وقت سے کہیں آگے تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایکس پیٹل چینی تالا سماجی رابطے شاندار انجینیئرنگ۔ صرف چابی قدیم انجینیئرنگ منفرد نمونہ ویب سائٹ ویڈیو