عالمی سطح پر منائے جانے والے محفوظ تر انٹرنیٹ کا مہینہ‘ کی مناسبت سے گوگل نے ایسے ٹولز، ٹیکنالوجیز اور تعلیمی اقدامات پیش کیے ہیں جو پاکستانی صارفین، مثلاً طلبہ، والدین اور اساتذہ کو مصنوعی ذہانت کے دور میں محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے رہنمائی فراہم کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:واک کرنے والوں اور سائیکل سواروں کو گوگل نے بڑی خوشخبری سنادی

مصنوعی ذہانت تعلیم اور روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ بنتی جا رہی ہے، چنانچہ گوگل نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ خاندان مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ اس کے فوائد سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔

اس حوالے سے گوگل کے کلسٹر ڈائریکٹر برائے پاکستان، فلپائن، تھائی لینڈ اور فرنٹیئر مارکیٹس، فرحان قریشی، کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شخص یا ادارہ آن لائن خطرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں، اس لیے آگاہی اور تعلیم نہایت ضروری ہیں۔ ہمارے لیے بچوں اور خاندانوں کا تحفظ انتہائی اہم ہے اور ہم اس کے لیے پُرعزم ہیں۔ ہم اپنے ٹولز اور پروگرام اسی مقصد کے تحت تیار کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ڈی این اے تحقیق میں انقلاب کی کوشش، گوگل ڈیپ مائنڈ نے نیا اے آئی ماڈل بنالیا

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں آن لائن تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے مقامی پروگراموں اور شراکت داریوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، کیونکہ انٹرنیٹ کو سب کے لیے محفوظ بنانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

گوگل میں ایشیا پیسیفک (APAC) کے ہیڈ آف ٹرسٹ اینڈ سیفٹی، نارمن ینگ کا کہنا ہے کہ مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ مصنوعی ذہانت تک رسائی سیکھنے، تخلیقی صلاحیتوں میں اضافے اور ترقی کے بے شمار مواقع فراہم کر سکتی ہے۔

ان کے مطابق ’محفوظ تر انٹرنیٹ کے مہینے‘ میں اور اس کے بعد بھی، ہم پاکستان میں خاندانوں کو عملی ٹولز اور ضروری معلومات سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ٹیکنالوجی کو اعتماد اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کر سکیں۔

مصنوعی ذہانت بطور ڈیجیٹل محافظ

گوگل اپنے سیکیور بائے ڈیزائن‘ اور ’سیکیور بائے ڈیفالٹ‘کے طریقۂ کار پر زور دیتا ہے، جس کے تحت حفاظتی اقدامات کو براہِ راست مصنوعات میں شامل کیا جاتا ہے۔ گوگل سیف سرچ  جیسی سہولتوں کے ذریعے والدین کو اطمینان فراہم کیا جاتا ہے، جو بچوں کے لیے پہلے سے فعال (ڈیفالٹ) ہوتی ہے۔

والدین فیملی لنک کے ذریعے اسکرین ٹائم منظم کرنے، ایپس کی منظوری دینے اور مواد کے لیے فلٹرز مقرر کرنے کی غرض سے حدود کو حسبِ ضرورت ترتیب دے سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ٹولز، جیسے گوگل لینس اور سرکل ٹو سرچ، صارفین کو مشکوک لنکس اور ممکنہ آن لائن دھوکہ دہی کی بروقت نشاندہی میں مدد دیتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کی مدد سے تخلیق کردہ اور انسانی مواد میں فرق کرنا تیزی سے اہم مہارت بنتا جا رہا ہے۔ گوگل طلبہ کو آن لائن معلومات کا تنقیدی جائزہ لینے کے لیے ’ SIFT ‘ طریقہ اختیار کرنے کی تجویز دیتا ہے۔ یعنی رُکی (Stop)، ماخذ کی تحقیق کریں، بہتر کوریج تلاش کریں، اور دعوؤں کی اصل تک پہنچیں۔ سرچ میں موجود ’ About this image ‘ اور SynthID  جیسے ٹولز بھی ڈیپ فیک ، تبدیل شدہ تصاویر یا مصنوعی ذہانت سے تحریر کردہ متن کی شناخت میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

خاندانوں کے لیے تیار کردہ لچکدار کنٹرولز

اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ ہر خاندان کا ڈیجیٹل سفر مختلف ہوتا ہے، گوگل ایسے کنٹرول فراہم کرتا ہے جنہیں ضرورت کے مطابق ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ یوٹیوب کے اسکرین ٹائم ٹولز، جن میں شارٹس کے لیے ’زیرو‘ آپشن کے ساتھ ٹائمر، عمر کے مطابق پروفائلز کے لیے اپ ڈیٹ شدہ اکاؤنٹ سوئچنگ، اور اینڈرائیڈ ڈیوائسز پر اسکول ٹائم سیٹنگز شامل ہیں، خاندانوں کو تعلیم اور گھریلو ترجیحات کے مطابق ٹیکنالوجی کے استعمال کو منظم کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے بارے میں آگاہی کو فروغ دینے اور بااختیار بنانے کے لیے اقدامات

محفوظ رکھنے سے آگے بڑھتے ہوئے، گوگل ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کی آگاہی میں بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

جیمینائی (Gemini) ایپ طلبہ کو سیکھنے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے، جبکہ Experience AI  اور Be Internet Awesome جیسے پروگرام نوجوانوں کو معلومات کا تنقیدی جائزہ لینے، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد میں فرق کرنے اور ذمہ دار ڈیجیٹل شہری بننے کی مشق کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:گوگل کروم جیمینائی کے نئے فیچرز کے ساتھ مزید اسمارٹ ہوگیا

ان اقدامات کے ذریعے گوگل کا مقصد یہ ہے کہ پاکستانی نوجوان نہ صرف آن لائن محفوظ رہیں بلکہ ایک محفوظ، مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ڈیجیٹل دنیا میں کامیابی کے لیے بااختیار بھی ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سیف ٹولز گوگل گوگل پاکستان مصنوعی ذہانت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سیف ٹولز گوگل گوگل پاکستان مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت سے فراہم کر کے مطابق آن لائن کے ساتھ گوگل نے کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ