وزیراعظم پنکھا تبدیلی پروگرام کا باقاعدہ آغاز
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
وزیراعظم پنکھا تبدیلی پروگرام کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان میں بنے ہوئے معیاری اور تصدیق شدہ پنکھے ہی فراہم کیے جائیں گے، پسماندہ علاقوں اور کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو ترجیح دی جائے گی، اقدام سے صارفین کے بلوں میں ماہانہ ہزاروں روپے کی بچت ہوگی۔
اویس لغاری نے کہا کہ منصوبے سے مقامی پنکھا ساز صنعت کو فروغ ملے گا، ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی، پنکھوں کی تبدیلی سے ٹرانسفارمرز جلنے کے واقعات میں کمی آئے گی،
لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں کمی آئے گی، پنکھوں کی تبدیلی سے فیڈر لیول پر بوجھ کم ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی کھپت کم ہونے سے سسٹم پر بوجھ کم ہوگا، توانائی کے شعبے میں اصلاحات لائی جارہی ہیں، توانائی کے شعبے میں بہتری اجتماعی کاوشوں کانتیجہ ہے،
آئی پی پیزکے ساتھ کامیاب مذاکرات کئے گئے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کےلئے پرعزم ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے توانائی کے شعبے کودنیاکی انرجی مارکیٹ کے برابرلاناہماراہدف ہے، انڈسٹری کےلئے 35فیصدسے زائدٹیرف میں کمی کی ہے، پروٹیکٹڈصارفین کے لئے مزید کام کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنکھاتبدیل پروگرام انقلابی اقدام ہے، پروگرام کی کامیابی کے لئے اسٹیٹ بینک سمیت بینکنگ سیکٹرکامشکورہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: توانائی کے شعبے نے کہا کہ
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔