data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی استحکام کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے عالمی قرض مارکیٹ تک رسائی کی تیاری کررہا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کے مطابق عالمی سرمایہ کاروں کے وفود سے ملاقاتوں میں وزیر خزانہ نے جاری اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے حکومتی عزم پر روشنی ڈالی۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے ہیں اور توقع ہے کہ سال کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہوجائیں گے۔

انہوں نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور نظام میں شفافیت لانے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ توانائی اور ٹیکس شعبے میں اصلاحات کو جاری رکھنے کی بات بھی کی۔

ملاقاتوں میں پانڈا بانڈ سمیت عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ نجی سرمایہ کار گروپ گوبی پارٹنرز سے بات چیت میں وینچر کیپٹل اور اسٹارٹ اپس کے فروغ پر زور دیا گیا۔

حکام کے مطابق ٹیکسلا فنڈ ٹو کے لیے 50 ملین ڈالر کا ہدف مقرر ہے جبکہ فن ٹیک، لاجسٹکس، ہیلتھ ٹیک اور سافٹ ویئر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دلچسپی ظاہر کی گئی۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری جیسے اقدامات سے مقامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے اور حکومت نجی شعبے کو معاشی ترقی کا محرک بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا