پاکستان عالمی قرض مارکیٹ تک رسائی کی تیاری میں ہے، وفاقی وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ٹیکس نیٹ بڑھانے اور نظام بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر سال کے آخر تک تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہوں گے جبکہ عالمی قرض مارکیٹ رسائی کی تیاری بھی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق عالمی سرمایہ کاروں کے وفد نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی، اس دوران وزیر خزانہ نے تجارتی اصلاحات اور ٹیرف میں کمی سے مسابقت بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا اور ترقیاتی شراکت داروں نے بھی پاکستان کی اصلاحات اور سرمایہ کاری ایجنڈے کی حمایت کا اعادہ کیا۔
وزیر خزانہ سے نجی سرمایہ کار گروپ گوبی پارٹنرز کے وفد نے بھی ملاقات کی ہے، وفاقی وزیر خزانہ نے عالمی سرمایہ کاروں کے وفد کو پاکستان میں جاری معاشی اصلاحات سے آگاہ کرنے کے ساتھ نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ 18 ماہ میں معاشی استحکام میں نمایاں بہتری آئی، زر مبادلہ کے ذخائر سال کے آخر تک تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہونے کی توقع ہے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ توانائی اور ٹیکس شعبے میں اصلاحات جاری ہیں، حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے اور نظام بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے اور پاکستان عالمی قرض مارکیٹ تک رسائی کی تیاری میں بھی ہے، پی آئی اے کی نجکاری سے مقامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
محمد اورنگزیب نے پانڈا بانڈ سمیت عالمی مارکیٹ تک رسائی میں پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور نجی سرمایہ کار گروپ گوبی پارٹنرز کی ملاقات میں وینچر کیپیٹل اور اسٹارٹ اپس کے فروغ کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے پاکستان میں نجی شعبے کی قیادت میں ترقی پر زور دیتے ہوئے رسک کیپیٹل تک رسائی روزگار اور جدت کے لیے ضروری قرار دی۔
وزارت خزانہ کے مطابق ٹیکسلا فنڈ ٹو کے لیے 50 ملین ڈالر کا ہدف مقرر ہے، گوبی پارٹنرز نے فن ٹیک، لاجسٹکس، ہیلتھ ٹیک اور سافٹ ویئر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب تک رسائی
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔