عہد کرنا ہوگا عالمی معیار اور اعلیٰ کوالٹی کو اپنی پہچان بنائیں گے‘گورنر
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) گور نرسندھ کامران خان ٹیسوری نے ‘‘میڈ اِن پاکستان کانفرنس اینڈ ایوارڈز’’ سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانی جب بیرونِ ملک اپنی مصنوعات پر ‘‘میڈ اِن پاکستان’’ دیکھتے ہیں تو فخر اور خوشی محسوس کرتے ہیں، ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ عالمی معیار اور اعلیٰ کوالٹی کو اپنی پہچان بنائیں گے، پاکستان کی 65 فیصد آبادی نوجوانوں اور 50 فیصد خواتین پر مشتمل ہے، یہ ہمارے لیے سنہری موقع ہے، گورنر سندھ نے کہاکہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان عالمی برآمدات میں مزید نمایاں مقام حاصل کرے گا، وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں جب ہم معرکہ? حق جیت سکتے ہیں تو معرکہ? ترقی بھی ضرور جیتیں گے، گورنر انیشیٹو کے تحت 50 ہزار نوجوان 9 لاکھ روپے مالیت کے آئی ٹی کورسز مفت کر رہے ہیں، راشن اور فلاحی منصوبے بھی جاری ہیں، گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے صوبائی وزیر سید سردار شاہ سمیت دیگر معزز مہمانوں کو یادگاری شیلڈز دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔