اسلام آباد:

حکومت نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) میں پاکستان کے نئے ایگزیکٹو ڈائریکٹرکی تقرری کیلیے 3 اعلیٰ افسران کے ناموں پر مشتمل پینل کوحتمی شکل دیدی ہے۔

ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے تعلق رکھنے والے تین افسران کے نام شارٹ لسٹ کیے ہیں، جن میں 2 خواتین افسران بھی شامل ہیں۔

اہم امیدواروں میں گریڈ 22 کی افسر سارہ سعیدسرِفہرست ہیں، جو اس وقت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں بطور اسپیشل سیکریٹری خدمات انجام دے رہی ہیں۔

دیگر امیدواروں میں سابق سیکریٹری خزانہ اورموجودہ سیکریٹری صحت حامدیعقوب شیخ شامل ہیں۔

ذرائع کاکہناہے کہ اگر حامد یعقوب کومنیلا نہ بھیجاگیاتو انہیں سیکریٹری پیٹرولیم تعینات کیاجاسکتاہے۔

تیسری امیدوارگریڈ 21 کی افسر نشیطہ محسن ہیں، جو اس وقت وزارتِ خزانہ میں اسپیشل سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق تقرری کیلیے سمری جلد وزیراعظم شہبازشریف کومنظوری کیلیے بھجوائی جائیگی، وزیراعظم نے بعض دیگر مضبوط امیدواروں سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال،چیئرمین ایف بی آرراشد لنگڑیال اورسیکریٹری داخلہ خرم آغاکو اہم ذمہ داریوں کے باعث موجودہ عہدوں سے فارغ نہ کرنے کافیصلہ کیا۔

سارہ سعیدحال ہی میں گریڈ 22 میں ترقی پانے والی گزشتہ پانچ دہائیوں کی کم عمر ترین افسر ہیں، وہ آکسفورڈ یونیورسٹی سے اکنامکس فارڈیولپمنٹ میں ایم ایس سی کی ڈگری رکھتی ہیں اور پنجاب یونیورسٹی کی گولڈمیڈلسٹ ہیں۔ 

اے ڈی بی میں پاکستان کے موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نور احمدکی مدت گزشتہ سال مکمل ہوچکی تھی تاہم نئی تقرری تک انہیں توسیع دی گئی،عہدہ پاکستان اور فلپائن کے درمیان 2سال کیلیے باری ،باری دیاجاتاہے۔  اے ڈی بی ہرسال یکم جولائی سے بورڈآف ڈائریکٹرزکی تقرریاں مؤثرکرتاہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے