مسافروں کیلیے خوشخبری، دو نئی ایئر لائنز کا فضائی آپریشن جلد شروع ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
پاکستان سے کارگو اور مسافر بردار دو نئی ایئر لائنز عنقریب اپنے فضائی آپریشن کا آغاز کرنے جا رہی ہیں، جس سے مسافروں اور صنعت کاروں دونوں کو سہولت میسر آئے گی۔
ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی اور متعلقہ ایئر لائنز نے تمام تر تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’ایئر کراچی‘‘ کے نام سے نئی آنے والی ایئر لائن نے طیارہ لیز پر حاصل کرنے کے معاملات کو حتمی شکل دے دی ہے اور امکان ہے کہ ایئر کراچی رواں سال مئی یا جون میں باقاعدہ آپریشن شروع کر دے گی۔
ابتدائی طور پر ایئر کراچی لاہور، اسلام آباد، کراچی، سکھر، ملتان، کوئٹہ اور پشاور کے لیے ڈومیسٹک پروازیں چلائے گی جبکہ ایک سال بعد بین الاقوامی روٹس پر بھی پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔
دوسری جانب کارگو سیکٹر میں بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق ٹی سی ایس ایک بوئنگ 747-400 سیریز کا طیارہ حاصل کر رہی ہے جو ابتدائی طور پر صرف کارگو آپریشن کے لیے استعمال ہوگا۔
مزید پڑھیںپاکستان اور بنگلادیش کے درمیان 14 سال بعد براہ راست فضائی رابطے بحال، ڈھاکا سے پرواز کراچی پہنچ گئی
اسی طرح کے ٹو ایئر، جو پہلے ہی کارگو سروس چلا رہی ہے، اپنے بیڑے میں مزید اضافہ کر رہی ہے اور بوئنگ 747-400 سیریز کا ایک اور طیارہ حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں ایئر کارگو کے شعبے میں طویل عرصے سے غیر ملکی ایئر لائنز کا غلبہ رہا ہے، تاہم مقامی کمپنیوں کے میدان میں آنے سے نہ صرف مسابقت بڑھے گی بلکہ ملکی صنعت اور برآمدات کو بھی فروغ ملے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان سے روزانہ تقریباً 90 ہزار سے ایک لاکھ مسافر اندرون و بیرون ملک سفر کرتے ہیں، جو فلائی جناح، پی آئی اے اور متحدہ عرب امارات، قطر، سعودی عرب، ملائیشیا سمیت دیگر ممالک کی ایئر لائنز کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔
ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ نئی ایئر لائنز کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کے ساتھ ساتھ صنعت کار بھی اس پیش رفت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایئر لائنز کے مطابق رہی ہے
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔