Jasarat News:
2026-07-24@03:34:44 GMT

امت مسلمہ کو ایک دوسرے کی حمایت کرنی چاہیے‘گورنر سندھ

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260212-08-12
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں ایرانی قونصلیٹ میں انقلاب اسلامی ایران کی 47ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ عالمی چیلنجز اور خطے میں موجود مشکلات کے باوجود جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مذاکرات، افہام و تفہیم اور سفارتی راستے ہی مسائل کا حل فراہم کرتے ہیں۔کامران ٹیسوری نے ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، بینکاری چینلز کو فعال کرنے اور اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی انقلاب کے بعد ایران نے جو استقامت اور ترقی کی راہیں اختیار کیں وہ دیگر ممالک کے لیے مثال ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر قومیں متحد ہو جائیں تو بڑی طاقتوں کے سامنے بھی ڈٹ سکتی ہیں۔ انہوں نے پاکستانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بعد از انقلاب سفر سے یہ سبق حاصل کیا جا سکتا ہے کہ کس طرح خودداری اور اتحاد کے ساتھ ترقی کی جاتی ہے اور بیرونی دباؤ کے آگے نہیں جھکنا پڑتا۔گورنر سندھ نے اسلامی ممالک کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کو باہمی اختلافات کے بجائے ایک دوسرے کی حمایت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وسائل اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے بغیر نہ تو معاشی میدان میں کامیابی ممکن ہے اور نہ ہی سفارتی سطح پر اثر و رسوخ قائم رہ سکتا ہے۔ فلسطین کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کامران ٹیسوری نے کہا کہ معصوم بچوں اور شہریوں پر مظالم پوری انسانیت کے لیے باعث تشویش ہیں اور اگر اسلامی ممالک متحد نہ ہوئے تو تجارتی اور سفارتی محاذ پر بھی نقصان اٹھانا پڑے گا۔تقریب کے دوران ایران کی ترقی سے متعلق دکھائی گئی ڈاکومنٹری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دعا کی کہ یہ ترقی تمام اسلامی ممالک میں جاری رہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود 2 مرتبہ ایران جا چکے ہیں اور ایران کے صدر کے پاکستان آنے پر انہیں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی دی گئی تھی۔ایران جانے والے پاکستانی طلبہ اور زائرین کے حوالے سے گورنر سندھ نے ایرانی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ان کے لیے سہولیات میں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے تاجر برادری اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز کے نمائندوں سے اپیل کی کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی روابط کو مزید فروغ دیا جائے، ایک دوسرے کے ملک میں مشترکہ نمائشوں کا انعقاد کیا جائے اور ہمسایہ تعلقات کو مضبوط بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں بھی اتحاد اور شہادت کے جذبے کے ذریعے بڑے چیلنجز کا مقابلہ کیا اور یہ ثابت کیا کہ قومی یکجہتی ہی اصل طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمام اسلامی ممالک اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں تو دنیا میں ان کی حیثیت مزید مضبوط ہوگی۔قبل ازیں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل H.

E. Akbar Eissazadeh نے کو کراچی میں ایک باوقار استقبالیہ کا انعقاد کیا، جس میں اسلامی انقلاب ایران کی کامیابی کی 45ویں سالگرہ منائی گئی۔ تقریب میں پاکستان کے اعلیٰ حکام، سفارتی نمائندگان، سیاسی و تجارتی شخصیات اور ثقافتی حلقے کے معززین نے شرکت کی۔قونصل جنرل نے خطاب میں کہا کہ اسلامی انقلاب صرف سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ عوامی حاکمیت، قومی خودمختاری اور تاریخی شناخت کے تحفظ کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ داخلی اور بین الاقوامی سطح پر استقامت، معاشرتی اتحاد اور انسانی صلاحیتوں کے ذریعے اپنے ترقی کے اہداف حاصل کیے ہیں۔انہوں نے ایران میں حالیہ مظاہروں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بعض بیرونی عناصر اور غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ نے پرامن احتجاج کو مسلح ہنگاموں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے شہریوں کو پرامن احتجاج کا حق دیا اور اپنی ذمے داریوں کو انتہائی صبر و تحمل کے ساتھ نبھایا، جس کے نتیجے میں عوام نے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشوں کو ناکام بنایا۔قونصل جنرل نے ایران کی دفاعی اور سائنسی ترقی، خودکفالت میں پیش رفت، صنعتی پیداوار میں اضافہ، صحت، تعلیم اور ٹیکنالوجی میں نمایاں کامیابیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے عالمی اور علاقائی معاملات میں تعمیری مذاکرات پر اعتماد کیا ہے اور اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مثبت تعلقات قائم رکھنے پر یقین رکھتا ہے۔انہوں نے ایران اور پاکستان کے تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی بنیادوں پر دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہیں اور صوبہ سندھ نے اقتصادی و ثقافتی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ طے پانے والے مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور سیاحت کے نئے مواقع فراہم کریں گی، جس سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک پاکستان کے گورنر سندھ دیتے ہوئے ایک دوسرے کہ ایران ایران کی ایران نے نے ایران کے ساتھ

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی