امریکی نائب معاون وزیر خارجہ کی وزیرِ خزانہ سے ملاقات، معاشی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
سٹی 42 : وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے امریکی نائب معاون وزیر خارجہ جان مارک پومرشائم نے ملاقات کی جس میں پاکستان اور امریکا کے درمیان معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ اور دوطرفہ اقتصادی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق وزیرِ خزانہ نے امریکی وفد کو ملکی معاشی صورتحال، استحکام کے اقدامات اور جاری اصلاحاتی ایجنڈے پر بریفنگ دی،انہوں نے پائیدار اور برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کی جانب منتقلی کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ مالیاتی خسارے میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری آ رہی ہے جبکہ آئی ٹی برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں اضافے سے معاشی اشاریوں میں مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
بھارت: ماں نے میٹروسٹیشن پر بیٹے کی منگنی کیوں کی؟ حیران کن ویڈیو وائرل
وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ پاکستان عالمی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ داخل ہونے اور پانڈا بانڈ کے اجرا کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، اس کے علاوہ بینکاری شعبے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سمیت مختلف اداروں کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ سے بڑے ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کا آغاز بھی متوقع ہے۔
اس موقع پر امریکی نائب معاون وزیر خارجہ جان مارک پومرشائم نے پاکستان کی مالیاتی اصلاحات اور معاشی استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا، ان کا کہنا تھا کہ امریکی کاروباری ادارے پاکستان میں اصلاحاتی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور سرمایہ کاری کے مواقع میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ،مسلسل دو شکستیں ،افغانستان کا اب کیا بنے گا۔۔؟
ملاقات میں دونوں ممالک نے پاکستان اور امریکا کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر بھی موجود تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔