افغانستان سے کارروائیاں نہ رکیں تو ردعمل سخت ہوگا، وزیر دفاع کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک میں بڑھتی دہشتگردی کے تناظر میں سخت پیغام دیتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ اگر سرحد پار سے حملوں کا سلسلہ نہ رکا تو پاکستان مؤثر جواب دینے پر مجبور ہوگا۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حتمی تاریخ دینا ممکن نہیں، تاہم حالات کا تقاضا ہے کہ جلد ردعمل دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور وہاں کی انتظامیہ اسے روکنے میں ناکام یا غیر سنجیدہ ہے تو اسے محض تماشائی نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہا، لیکن یہ قابلِ قبول نہیں کہ بات چیت کے دوران ہی حملے جاری رہیں۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ مختلف فریقوں کی جانب سے پس پردہ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ انہیں بھی تاخیر کے نقصانات کا اندازہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر خطے میں پائیدار امن مطلوب ہے تو علاقائی ممالک کو مل کر ذمہ داری لینا ہوگی اور افغانستان کے استحکام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا، حتیٰ کہ مالی معاونت جیسے آپشنز بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔
انہوں نے ملکی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سویلین حکومت کو عسکری اداروں کی حمایت حاصل ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تمام ادارے متحد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہونا چاہیے کہ یہ ایک مشترکہ قومی جنگ ہے جسے مل کر جیتنا ہوگا۔
خواجہ آصف نے اس امید کا اظہار کیا کہ وفاق اور صوبے خصوصاً خیبر پختونخوا دہشتگردی کے معاملے پر ایک صفحے پر آئیں گے، کیونکہ داخلی اختلافات دشمن عناصر کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت صورتحال سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اور متحرک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔