سندھ بلڈنگ، کورنگی میں غیرقانونی عمارتوں کا جال، قوانین سے انحراف
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور بلڈنگ انسپکٹر کاشف کے درمیان ہم آہنگی ،غیرمعیاری تعمیرات کو تحفظ
اللہ والا ٹاؤن کے ڈی اے ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی رہائشی پلاٹ R1138 پر دکانیں تعمیر
ضلع کورنگی میں تعمیراتی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیاں ایک منظم طریقے سے جاری ہیں، جہاں متعلقہ محکموں کے کارکنان اور عہدیداروں کی جانب سے ان غیرقانونی سرگرمیوں پر خاموشی یا معاونت کے شواہد ملے ہیں۔محلے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ متعدد جگہوں پر بغیر منظوری کے منزل در منزل عمارتیں کھڑی کی جا رہی ہیں، جن میں سے بیشتر میں بنیادی سہولیات جیسے کہ مناسب راستہ، پارکنگ اور آگ سے بچاؤ کے انتظامات تک موجود نہیں ہیں۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے اللہ والا ٹاؤن میں واقع کے ڈی اے ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی کے ایک بزرگ شہری محمد یوسف نے بتایا کہ رہائشی پلاٹ نمبر آر 1138 پر غیر قانونی طور پر دکانیں تعمیر کی جارہی ہیں جب ہم نے احتجاج کیا تو پتہ چلا کہ تمام دستاویزات ‘ترتیب’دے دی گئی ہیں۔ متعلقہ دفتر سے کوئی مدد نہیں ملی، بلکہ ہمیں ہی ڈرایا دھمکایا گیا۔”سرکاری ذرائع کے مطابق، اس معاملے میں دو اہم افسران ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور بلڈنگ انسپکٹر کاشف علی کے نام بار بار سامنے آ رہے ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ ان غیرقانونی تعمیرات کو جاری رکھنے میں معاونت کر رہے ہیں۔ ایک سابق محکمانہ ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "یہ کوئی اچانک یا انفرادی واقعہ نہیں۔ اس کے پیچھے ایک مربوط نظام کام کر رہا ہے ، جہاں مختلف سطحوں پر موجود افراد اپنے اپنے حصے کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔”ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں نہ صرف شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے ، بلکہ شہری ڈھانچے پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ پانی، بجلی اور گیس کی لائنیں غیرمنصوبہ بند تعمیرات کی وجہ سے مسلسل متاثر ہو رہی ہیں۔ماہرین شہری منصوبہ بندی کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر ان غیرقانونی تعمیرات پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے وقتوں میں بڑے پیمانے پر انسانی اور مالی نقصان کا خطرہ ہے ۔شہری حقوق کے کارکنان کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے میں ایک شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائے ، اور تمام غیرقانونی تعمیرات کو نشانہ بنایا جائے ، چاہے ان کے پیچھے کسی بھی سطح کا فرد کیوں نہ ہو۔عوام کو امید ہے کہ متعلقہ حکام اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ دیں گے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنائیں گے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔