لاہور:

کاہنہ کے علاقے میں پولیس چوکی لکھوکی پر شہری کو زنجیروں سے باندھ کر رکھنے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد آئی جی پنجاب عبدالکریم نے سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کے احکامات جاری کر دیے۔

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق آئی جی پنجاب کے حکم پر اے ایس پی آپریشنز کاہنہ آغا فصیح الرحمان کو تبدیل کر کے سنٹرل پولیس آفس کلوز کر دیا گیا ہے، جبکہ ایس ایچ او کاہنہ اسد عباس کو معطل کر دیا گیا۔

اسی طرح چوکی انچارج لکھوکی عدنان ورک اور محرر محمد اظہر کے خلاف تھانہ کاہنہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وائرل ویڈیو میں ایک شہری کو زنجیروں سے چارپائی کے ساتھ باندھا گیا ہے اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

مزید پڑھیں

لاہور: مین ہول میں گرکر ماں بیٹی کے جاں بحق ہونے کے مقدمے میں اہم پیشرفت

شہری کی شناخت طارق کے نام سے ہوئی ہے جو کیرکا گاؤں کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طارق کو گزشتہ پانچ روز سے بغیر مقدمہ درج کیے حراست میں رکھا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق طارق پر چوری کا الزام تھا تاہم اس کا کوئی سابقہ کریمنل ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔

آئی جی پنجاب عبدالکریم نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کے ساتھ بدسلوکی اور اختیارات سے تجاوز ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی