پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑائی ایٹمی جنگ بن سکتی تھی: ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی کو عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کسی بھی لمحے ایٹمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتی تھی، تاہم امریکی معاشی دباؤ اور سفارتی حکمتِ عملی کے باعث صورتحال کو قابو میں لایا گیا
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری شدید جھڑپیں نہایت خطرناک رخ اختیار کر چکی تھیں، دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تنازع کے دوران مجموعی طور پر 10 جنگی طیارے تباہ ہوئے تھے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اور دونوں ممالک ایٹمی تصادم کے دہانے پر کھڑے تھے،امریکا کی جانب سے ٹیرف اور دیگر معاشی اقدامات کے ذریعے فریقین کو پیغام دیا گیا، جس کے بعد جنگی ماحول کو ٹھنڈا کرنے میں مدد ملی۔
ان کا کہنا تھا کہ میری نظر میں فریقین نہایت شدت سے لڑ رہے تھے اور اگر بروقت مداخلت نہ کی جاتی تو نتائج نہایت تباہ کن ہو سکتے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے گفتگو کے دوران ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ تہران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے، اگر ایران نے مذاکرات سے گریز کیا تو یہ اس کے لیے دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا، امریکا ایران کے ساتھ کسی ایسے معاہدے کا خواہش مند ہے جو خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنا سکے۔
ٹرمپ کے اس بیان کو عالمی سطح پر ایک بار پھر جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے ممکنہ اثرات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات خطے میں سفارتی دباؤ اور عالمی طاقتوں کے کردار کو نمایاں کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔