اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جے یو ہی و ملی یکجہتی کونسل نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا امن بورڈ عالم اسلام اور فلسطینی عوام کیلئے نقصاندہ ہے، جب تک فلسطینی عوام اور حماس اس معاہدے کو تسلیم نہیں کرتے، جے یو پی غزہ امن معاہدے کی مخالفت کرتی رہیگی۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امن بورڈ عالم اسلام اور فلسطینی عوام کیلئے نقصان دہ ہے، جب تک فلسطینی عوام اور حماس اس معاہدے کو تسلیم نہیں کرتے، جے یو پی غزہ امن معاہدے کی مخالفت کرتی رہے گی، ایک طرف امن کی باتیں ہو رہی ہیں، تو دوسری طرف امریکا اور اسرائیل ایران کو جنگ کی دھمکیاں دے رہے ہیں، پاکستان کو ایران، افغانستان، چین اور روس جیسے اہم پڑوسی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی کابینہ کے آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جمعیت علماء پاکستان (نورانی) کی مرکزی کابینہ کا اہم اجلاس زوم پر آن لائن ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں ملکی اور بین الاقوامی صورتحال، اسلام مخالف غیر شرعی قوانین کی منظوری، اتحاد اہلسنت، 28 مارچ یوم تاسیس جے یو پی اور رکنیت سازی مہم سمیت متعدد اہم مسائل پر تفصیل سے غور کیا گیا۔

صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی ظلم کا سلسلہ ہنوز جاری ہے، جس کے بارے میں عالمی سطح پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے، امت مسلمہ کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی امن و امان کی صورتحال تشویش ناک ہے، اسلام آباد میں حالیہ دھماکہ کے پی کے اور بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی نے عالمی منظرنامے کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں حالات مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں، اس وقت مسلم حکمراں متحد ہوں، مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو ایک مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ہوگا، تاکہ ملک کی داخلی اور خارجی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران طبقہ 25 کروڑ عوام کے ارمانوں کا خون کرتے ہوئے امریکا کی حمایت اور اسرائیل سے محبت کی پینگیں بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں، جبکہ ملک کی سالمیت خطرے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام دشمن طاغوتی قوتیں ملک میں انتشار اور افرا تفری پھیلانا چاہتی ہیں، ملک میں علیحدگی کی باتیں ہو رہی ہیں، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر صاحبزادہ محمد زبیر نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت نے خلاف شریعت قوانین منظور کئے ہیں، جن میں 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی اور حقوق نسواں بل شامل ہیں، یہ فوری واپس لئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ شراب خانوں کی اجازت دی جا رہی ہے اور فحاشی، بے حیائی اور عریانی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سخت ایکشن لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اتحاد اہلسنت کیلئے اپنی کوششوں کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔ اجلاس میں جے یو پی کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کو مستحکم کرنے، اسلامی تعلیمات اور معاشرتی اصولوں کی حفاظت کیلئے مختلف اقدامات پر اتفاق کیا گیا، اس کے علاوہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے، ملک کی موجودہ صورتحال میں بہتری لانے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کی ضرورت ہے کرتے ہوئے جے یو پی

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی