چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر اشرفی نے اسلام آباد امام بارگاہ میں خودکش حملے کو بزدلانہ کارروائی قرار دی اور کہا کہ موجودہ دہشت گردی کی لہر کے پیچھے بھارت ہے اور افغانستان سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔

وزیراعظم کے کوارڈینیٹر اور چیئرمین علما کونسل پاکستان علامہ طاہر اشرفی نے سانحہ ترلائی کے حوالے سے قومی پیغام امن کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترلائی کا واقعہ نیا اور غیر متوقع ہے اور یہ پاکستان دشمن عناصر کی بزدلانہ کارروائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ خارجی ہیں جو مساجد اور چرچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، قرآن کے مطابق بے گناہ مومن کا قاتل ہمیشہ جہنم میں رہے گا جبکہ ایسے عناصر اللہ کی لعنت کے مستحق ہیں۔

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق پر تمام مکاتب فکر کے اکابرین کے دستخط موجود ہیں اور اس کی خلاف ورزی پر قانون اپنا راستہ اپنائے گا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اپنا مسلک چھوڑو نہیں، دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہیں اور اتحاد و اتفاق کے ذریعے ہی دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

طاہر اشرفی نے کہا کہ آپ کا بزدل دشمن عام شہریوں، عورتوں، بچوں اور عبادت گاہوں پر حملہ آور ہوگا کیونکہ ہمارا دشمن ہماری فوج سے لڑ نہیں سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ خدیجۃ الکبریٰ عظمت اور شان والا نام ہے، ہماری مان سیدنا خدیجۃ الکبریٰ نے پہلے کلمہ پڑھ کر گواہی دی، اگر مسلمان ہوتا تو اس نام کو دیکھ کر حملہ نہ کرتا، دہشت گردوں کا تعلق اسلام سے نہیں، جو کسی مومن کو قتل کرے گا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ جس نے اللہ کا شریک ٹھہراہا اور  قتل کیا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا، ہم نے پمز اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی تو انہوں نے کہا ہم سجدے میں تھے، ہم کمزور ہیں ہمارا رب تو کمزور نہیں ہے۔

طاہر اشرفی نے کہا کہ یہ پرانی روایت ہے کہ سجدے میں حملہ کرنا یہ کوئی نئی روایت نہیں، مسجد میں حضرت عمر  اور حضرت علی پر حملہ ہوا، اس کا مطلب یہ ہے کہ مساجد پر حملہ کرنے والے دونوں کے ماننے والے نہیں ہیں۔

چیئرمین علما کونسل نے کہا کہ موجودہ دہشت گردی کی لہر کے پیچھے فتنۃ الہندوستان ہے اور افغانستان سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہدا اور زخمیوں کی ہر ممکن معاونت کی جائے اور جہاں کسی کو سہولت نہ ملے وہ براہ راست اطلاع دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں سیکیورٹی کے فقدان پر ایکشن لیا جا رہا ہے اور تمام سہولت کار گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ کو پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر حفاظتی اقدامات مضبوط بنانے کی ہدایت کی۔

چیئرمین علما کونسل پاکستان نے حکومت پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ انہوں نے سانحے کے پیش نظر حکومتی سطح پر تقریبات منسوخ کیں اور دعا کی کہ اللہ امت مسلمہ کو ایک جسم کی مانند متحد رکھے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم فلسطینیوں کی نمائندگی جرات سے کرتے ہیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: طاہر اشرفی نے انہوں نے کہا علما کونسل سہولت کار نے کہا کہ ہے اور رہا ہے

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار