امریکی عہدیداروں کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اس حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا، جو پہلے وینزویلا کیخلاف استعمال کی گئی تھی، مگر اسکے نتیجے میں تہران کیجانب سے شدید ردعمل اور عالمی تیل منڈی میں عدم استحکام کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی حکام نے ایرانی تیل بردار جہازوں کو قبضے میں لینے پر غور شروع کر دیا۔ امریکی عہدیدار کے مطابق ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے تیل بردار جہازوں کو قبضے میں لینے پر بات ہوئی ہے، تاہم امریکی حکام کو ایران کی جوابی کارروائی اور عالمی تیل کی منڈیوں پر اثرات کا خدشہ ہے۔ امریکی عہدیداروں کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اس حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا، جو پہلے وینزویلا کے خلاف استعمال کی گئی تھی، مگر اس کے نتیجے میں تہران کی جانب سے شدید ردعمل اور عالمی تیل منڈی میں عدم استحکام کا خدشہ ہے۔ یاد رہے کہ امریکا نے گذشتہ دو ماہ کے دوران وینزویلا کو تیل فراہم کرنے والے کئی جہازوں کے خلاف کارروائیاں کیں، اس دوران ایرانی تیل لے جانے والے جہاز بھی ضبط کیے گئے۔

دوسری جانب بھارت نے چابہار بندرگاہ سے خاموش واپسی کے بعد ایران کے تیل بردار جہاز بھی ضبط کرلیے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بھارتی کوسٹ گارڈ نے بحیرۂ عرب میں اسمگلنگ کے الزام میں 3 آئل ٹینکروں کو ضبط کیا، تینوں آئل ٹینکرز کو ممبئی سے تقریباً 100 سمندری میل کے فاصلے پر روکا گیا۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ضبط شدہ بحری جہاز ال جافزیہ، ایسفالٹ اسٹار اور اسٹیلر روبی ایران سے منسلک تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تیل بردار کے مطابق

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی