پاکستان کو ایران، افغانستان، چین و روس سے تعلقات مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے، صاحبزادہ زبیر
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جے یو ہی و ملی یکجہتی کونسل نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا امن بورڈ عالم اسلام اور فلسطینی عوام کیلئے نقصاندہ ہے، جب تک فلسطینی عوام اور حماس اس معاہدے کو تسلیم نہیں کرتے، جے یو پی غزہ امن معاہدے کی مخالفت کرتی رہیگی۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امن بورڈ عالم اسلام اور فلسطینی عوام کیلئے نقصان دہ ہے، جب تک فلسطینی عوام اور حماس اس معاہدے کو تسلیم نہیں کرتے، جے یو پی غزہ امن معاہدے کی مخالفت کرتی رہے گی، ایک طرف امن کی باتیں ہو رہی ہیں، تو دوسری طرف امریکا اور اسرائیل ایران کو جنگ کی دھمکیاں دے رہے ہیں، پاکستان کو ایران، افغانستان، چین اور روس جیسے اہم پڑوسی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی کابینہ کے آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جمعیت علماء پاکستان (نورانی) کی مرکزی کابینہ کا اہم اجلاس زوم پر آن لائن ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں ملکی اور بین الاقوامی صورتحال، اسلام مخالف غیر شرعی قوانین کی منظوری، اتحاد اہلسنت، 28 مارچ یوم تاسیس جے یو پی اور رکنیت سازی مہم سمیت متعدد اہم مسائل پر تفصیل سے غور کیا گیا۔
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی ظلم کا سلسلہ ہنوز جاری ہے، جس کے بارے میں عالمی سطح پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے، امت مسلمہ کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی امن و امان کی صورتحال تشویش ناک ہے، اسلام آباد میں حالیہ دھماکہ کے پی کے اور بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی نے عالمی منظرنامے کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں حالات مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں، اس وقت مسلم حکمراں متحد ہوں، مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو ایک مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ہوگا، تاکہ ملک کی داخلی اور خارجی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران طبقہ 25 کروڑ عوام کے ارمانوں کا خون کرتے ہوئے امریکا کی حمایت اور اسرائیل سے محبت کی پینگیں بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں، جبکہ ملک کی سالمیت خطرے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام دشمن طاغوتی قوتیں ملک میں انتشار اور افرا تفری پھیلانا چاہتی ہیں، ملک میں علیحدگی کی باتیں ہو رہی ہیں، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر صاحبزادہ محمد زبیر نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت نے خلاف شریعت قوانین منظور کئے ہیں، جن میں 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی اور حقوق نسواں بل شامل ہیں، یہ فوری واپس لئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ شراب خانوں کی اجازت دی جا رہی ہے اور فحاشی، بے حیائی اور عریانی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سخت ایکشن لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اتحاد اہلسنت کیلئے اپنی کوششوں کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔ اجلاس میں جے یو پی کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کو مستحکم کرنے، اسلامی تعلیمات اور معاشرتی اصولوں کی حفاظت کیلئے مختلف اقدامات پر اتفاق کیا گیا، اس کے علاوہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے، ملک کی موجودہ صورتحال میں بہتری لانے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کی ضرورت ہے کرتے ہوئے جے یو پی
پڑھیں:
سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔
خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔
علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز
بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔