آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ 2026: بھارتی کھلاڑی پاور ہٹس کے لیے مخصوص بلے استعمال کرتے ہیں، سری لنکا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
کولمبو میں آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے افتتاحی میچ میں آئرلینڈ کو 20 رنز سے شکست دینے کے بعد سری لنکا کے بیٹر بھانوکا راجاپکشا نے بھارتی کرکٹ ٹیم پر سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔
نیوز وائر سے گفتگو کرتے ہوئے بھانوکا راجاپکشا نے دعویٰ کیا کہ بھارتی کھلاڑی ایسے مخصوص بیٹس استعمال کر رہے ہیں جو دیگر ٹیموں کو دستیاب بیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقت پیدا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بیٹس پر ربڑ کی کوئی تہہ لگی ہو، جو عام طور پر دستیاب نہیں ہوتی۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت میچ: سری لنکا کا پاکستان کے فیصلے پر اظہارِ تشکر
بھانوکا راجاپکشا کے مطابق ’بھارتی کھلاڑیوں کے بیٹس ہمارے بہترین بیٹس سے بھی کہیں زیادہ طاقتور ہیں، یہ بیٹس عام کھلاڑی خرید بھی نہیں سکتے، تمام کھلاڑی اس حقیقت سے واقف ہیں۔
“Indian players have bats that are far superior to the best bats we get.
— NewsWire ???????? (@NewsWireLK) February 9, 2026
ان بیانات کے بعد بیٹس میں چھیڑ چھاڑ یا خصوصی ڈیزائن شدہ آلات کے استعمال سے متعلق بحث نے جنم لے لیا ہے، تاہم تاحال اس معاملے پر آئی سی سی کو کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی بھارتی ٹیم یا عالمی کرکٹ ادارے کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بھانوکا راجاپکشا خود اس وقت جاری ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ نہیں ہیں۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے قبل کچھ پاکستانی صحافیوں اور سابق کرکٹرز نے بھی آئی سی سی پر کولمبو میں پاکستان کے خلاف خصوصی پچز تیار کرنے کے الزامات عائد کیے تھے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پچز پر اضافی گھاس رکھ کر پاکستانی اسپنرز کو نقصان پہنچایا گیا۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ 2026: سری لنکا نے آئرلینڈ کو 20 رنز سے شکست دیدی
یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کو آئی سی سی ایونٹس میں ایسے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے دوران بھی بعض سابق پاکستانی کرکٹرز نے الزام لگایا تھا کہ بھارتی بولرز کو خصوصی گیندیں فراہم کی جا رہی ہیں، جن سے غیر معمولی سوئنگ حاصل ہو رہی تھی، خاص طور پر محمد شامی کی شاندار کارکردگی کے بعد یہ بحث شدت اختیار کر گئی تھی۔
واضح رہے کہ بھارت نے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں اپنے پہلے میچ میں امریکا کو ممبئی میں شکست دی ہے، جبکہ بھارتی ٹیم 12 فروری کو نئی دہلی میں نمیبیا کے خلاف اپنا اگلا میچ کھیلے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 بھارتی کھلاڑی بھانوکا راجاپکشا سری لنکا کولمبو مخصوص بلے
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 بھارتی کھلاڑی سری لنکا کولمبو مخصوص بلے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 بھارتی کھلاڑی کہ بھارتی سری لنکا
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔