بھارتی کرکٹ بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا نے مذاکرات کو ’بڑی کامیابی‘ قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
بھارتی کرکٹ بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاک بھارت میچ کے لیے مذاکرات کے نتیجے کو بڑی کامیابی قرار دے دیا۔آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان اور بھارت کے میچ سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے خاتمے پر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے نائب صدر راجیو شکلا نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجیو شکلا نے کہا کہ آئی سی سی کے نمائندوں کے مذاکرات کے نتیجے سے خوش ہوں کہ کرکٹ کی اہمیت کو ترجیح دی گئی، باہمی رضامندی سے فیصلہ ہوا جو کہ اچھی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کو آئی سی سی کےچیئرمین نے سپروائز کیا ، آئی سی سی کے نمائندے پی سی بی اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ سے بات چیت کے لیے لاہور گئے اور مسئلہ حل ہوا۔بی سی سی آئی نائب صدر کا کہنا تھا کہ مسئلے کے حل کے لیے آئی سی سی نے اقدامات کیے،کرکٹ پھر سامنے آئی جہاں تک آئی سی سی کا تعلق ہے یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔راجیو شکلا نے مزید کہا کہ آئی سی سی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ پاکستان کو مذاکرات کی میز پر لائی اور اب 15 فروری کو میچ کا انعقاد ہونا ایک اچھی خبر ہے، کہ پاکستان کھیلے گا اور یہ ورلڈکپ کامیابی کی مثال بنے گا، یہ سب کے لیے ون ون پوزیشن ہے، میچ ہو گا اور ورلڈکپ ایک کامیاب ایونٹ ہو گا۔بھارت میں سکیورٹی خدشات کے باعث ایونٹ سے باہر ہونے والی بنگلا دیشی ٹیم کے بارے میں راجیو شکلا نے کہا کہ بنگلا دیش کے لیے بھی اچھا ہے کہ مذاکرات میں ان کے بورڈ کو بھی ریلیف دیا گیا ہے، بنگلا دیش کرکٹ بورڈ بھی خوش ہے، انہوں نے آئی سی سی کی تعریف کی ہے۔واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے قومی کرکٹ ٹیم کو 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت سے دے دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: راجیو شکلا نے کرکٹ بورڈ کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان