Jasarat News:
2026-07-24@03:59:38 GMT

غزہ کی بحالی یا اسرائیل کا تحفظ!

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260210-03-2
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت ترکیہ، مصر اور قطر کی ثالثی میں فلسطین کے ساحلی علاقے غزہ میں جنگ بندی کا جو معاہدہ کیا گیا ہے، اسرائیل کی جانب سے اس کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ نئے سال کے آغاز پر صرف جنوری اور فروری کے ابتدائی دنوں میں غزہ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں پچاس سے زائد افراد جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیووٹکوف کا کہنا ہے کہ 14 جنوری سے غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا باضابطہ آغاز کردیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں جنگ بندی، قیدیوں اور یرغمالیوں کی رہائی اور انسانی امداد کے غزہ میں داخلے شامل تھے مگر اس کے باوجود اس عرصے میں اسرائیل کے حملے بھی جاری رہے اور انسانی امداد کی ترسیل میں بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ اب دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کے تحت غزہ کو غیر مسلح بنانا، ٹیکنوکریٹس کی حکومت کا قیام اور غزہ کی تعمیر و ترقی اور انفرا اسٹرکچر کی بحالی کا کام ہوگا مگر سب سے زیادہ زور اس بات پر لگایا جارہا ہے کہ غزہ کو مسلح تنظیموں بالخصوص حماس سے پاک کردیا جائے، مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کردیا جائے اور اپنی مرضی کی حکومت قائم کردی جائے تاکہ کسی بھی طور اسرائیل کی دفاع اور سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جسے فلسطینی عوام اور قیادت کسی صورت قبول نہیں کرے گی، یہی وہ عزم ہے جس کا اعادہ حماس کے سینئر رہنما خالد مشعل نے دوحا میں ایک کانفرنس کے دوران واضح اور دو ٹوک انداز میں کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام غزہ میں کسی بھی غیرملکی مداخلت کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہتھیار ڈالیں گے، مزاحمت جاری رہے گی، اسرائیل نسل کشی آسان بنانے کے لیے فلسطینیوں کے ہاتھ سے ہتھیار چھیننا چاہتا ہے، ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے، جب تک غزہ پر غاصبانہ قبضہ برقرار ہے، بھرپور مزاحمت جاری رہے گی۔ حماس کے سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ غزہ صرف فلسطینیوں کا ہے اور اس پر فلسطینی ہی حکومت کریں گے، انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ غزہ کی تعمیر نو اور امداد کے لیے متوازن راستہ نکالے لیکن فلسطینیوں پر کوئی بیرونی فیصلہ مسلط نہ کیا جائے۔دوسری جانب غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی باضابطہ میٹنگ 19 فروری کو امریکا میں منعقد کرنے کی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں، جس کے لیے بورڈ کے اراکین کو دعوت نامے ارسال کر دیے گئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن میں واقع یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں بورڈ ارکان اور غزہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کی میزبانی کریں گے۔غزہ بورڈ آف پیس میں اب تک 25 ممالک شمولیت اختیار کر چکے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ اس بورڈ کے چیئرمین ہیں۔ ادھربرطانیہ، فرانس اور ناروے سمیت کئی اہم یورپی ممالک نے اس بورڈ کو اقوام متحدہ کے کردار کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ ابتدا میں اس منصوبے پر تنقید کرنے والے اسرائیلی وزیر اعظم نے بعد ازاں غزہ بورڈ آف پیس کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کر دی تھی۔ پاکستان غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت کرے گا اس حوالے سے باضابطہ فیصلہ کر لیا گیا ہے، پاکستان کی جانب سے وزیراعظم یا نائب وزیراعظم اجلاس میں ملک کی نمائندگی کریں گے۔ اجلاس میں غزہ کی صورتحال، امن و استحکام سے متعلق اقدامات اور آئندہ لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا غزہ امن منصوبے کے تحت جو اقدامات کر رہا ہے فی الواقع وہ امن کے قیام کے لیے نہیں بلکہ اسرائیل کے تحفظ کے لیے ہے، امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں غزہ کی مسلح تنظیموں کو غیر مسلح کرنے کی کوشش امریکا کے انہی عزائم کا آئینہ دار ہے۔ امریکا اگر واقعی غزہ میں امن کا خواہاں ہوتا تو وہ اسرائیل کو جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کا پابند کرتا، اسرائیل نے اب تک جنگ بندی کے معاہدے کی جو خلاف ورزی کی ہے اس پر امریکا نے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے بلکہ امریکا ابھی تک اسرائیل کو فوجی ساز و سامان اور اسلحہ و باردد فراہم کرہا ہے، جسے دیکھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ غزہ امن منصوبے کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے اس کا مقصد نہ ہی قیامِ امن ہے اور نہ ہی غزہ کی بحالی اور تعمیر و ترقی ہے، اس صورتحال پر اس معاہدے میں شامل ثالثی ممالک کو آگے بڑھنا چاہیے اور کچھ نہ سہی کم از کم وہ اپنے تحفظات کا اظہار تو کرسکتے ہیں، اس باب میں ان ممالک کی مجرمانہ خاموشی فلسطینی عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہوگی۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: غزہ امن منصوبے کے غزہ بورڈ ا ف پیس کریں گے کے لیے غزہ کی کہ غزہ گیا ہے

پڑھیں:

امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام

امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔

U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026

سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم