غزہ کی بحالی یا اسرائیل کا تحفظ!
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260210-03-2
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت ترکیہ، مصر اور قطر کی ثالثی میں فلسطین کے ساحلی علاقے غزہ میں جنگ بندی کا جو معاہدہ کیا گیا ہے، اسرائیل کی جانب سے اس کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ نئے سال کے آغاز پر صرف جنوری اور فروری کے ابتدائی دنوں میں غزہ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں پچاس سے زائد افراد جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیووٹکوف کا کہنا ہے کہ 14 جنوری سے غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا باضابطہ آغاز کردیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں جنگ بندی، قیدیوں اور یرغمالیوں کی رہائی اور انسانی امداد کے غزہ میں داخلے شامل تھے مگر اس کے باوجود اس عرصے میں اسرائیل کے حملے بھی جاری رہے اور انسانی امداد کی ترسیل میں بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ اب دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کے تحت غزہ کو غیر مسلح بنانا، ٹیکنوکریٹس کی حکومت کا قیام اور غزہ کی تعمیر و ترقی اور انفرا اسٹرکچر کی بحالی کا کام ہوگا مگر سب سے زیادہ زور اس بات پر لگایا جارہا ہے کہ غزہ کو مسلح تنظیموں بالخصوص حماس سے پاک کردیا جائے، مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کردیا جائے اور اپنی مرضی کی حکومت قائم کردی جائے تاکہ کسی بھی طور اسرائیل کی دفاع اور سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جسے فلسطینی عوام اور قیادت کسی صورت قبول نہیں کرے گی، یہی وہ عزم ہے جس کا اعادہ حماس کے سینئر رہنما خالد مشعل نے دوحا میں ایک کانفرنس کے دوران واضح اور دو ٹوک انداز میں کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام غزہ میں کسی بھی غیرملکی مداخلت کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہتھیار ڈالیں گے، مزاحمت جاری رہے گی، اسرائیل نسل کشی آسان بنانے کے لیے فلسطینیوں کے ہاتھ سے ہتھیار چھیننا چاہتا ہے، ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے، جب تک غزہ پر غاصبانہ قبضہ برقرار ہے، بھرپور مزاحمت جاری رہے گی۔ حماس کے سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ غزہ صرف فلسطینیوں کا ہے اور اس پر فلسطینی ہی حکومت کریں گے، انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ غزہ کی تعمیر نو اور امداد کے لیے متوازن راستہ نکالے لیکن فلسطینیوں پر کوئی بیرونی فیصلہ مسلط نہ کیا جائے۔دوسری جانب غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی باضابطہ میٹنگ 19 فروری کو امریکا میں منعقد کرنے کی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں، جس کے لیے بورڈ کے اراکین کو دعوت نامے ارسال کر دیے گئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن میں واقع یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں بورڈ ارکان اور غزہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کی میزبانی کریں گے۔غزہ بورڈ آف پیس میں اب تک 25 ممالک شمولیت اختیار کر چکے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ اس بورڈ کے چیئرمین ہیں۔ ادھربرطانیہ، فرانس اور ناروے سمیت کئی اہم یورپی ممالک نے اس بورڈ کو اقوام متحدہ کے کردار کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ ابتدا میں اس منصوبے پر تنقید کرنے والے اسرائیلی وزیر اعظم نے بعد ازاں غزہ بورڈ آف پیس کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کر دی تھی۔ پاکستان غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت کرے گا اس حوالے سے باضابطہ فیصلہ کر لیا گیا ہے، پاکستان کی جانب سے وزیراعظم یا نائب وزیراعظم اجلاس میں ملک کی نمائندگی کریں گے۔ اجلاس میں غزہ کی صورتحال، امن و استحکام سے متعلق اقدامات اور آئندہ لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا غزہ امن منصوبے کے تحت جو اقدامات کر رہا ہے فی الواقع وہ امن کے قیام کے لیے نہیں بلکہ اسرائیل کے تحفظ کے لیے ہے، امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں غزہ کی مسلح تنظیموں کو غیر مسلح کرنے کی کوشش امریکا کے انہی عزائم کا آئینہ دار ہے۔ امریکا اگر واقعی غزہ میں امن کا خواہاں ہوتا تو وہ اسرائیل کو جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کا پابند کرتا، اسرائیل نے اب تک جنگ بندی کے معاہدے کی جو خلاف ورزی کی ہے اس پر امریکا نے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے بلکہ امریکا ابھی تک اسرائیل کو فوجی ساز و سامان اور اسلحہ و باردد فراہم کرہا ہے، جسے دیکھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ غزہ امن منصوبے کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے اس کا مقصد نہ ہی قیامِ امن ہے اور نہ ہی غزہ کی بحالی اور تعمیر و ترقی ہے، اس صورتحال پر اس معاہدے میں شامل ثالثی ممالک کو آگے بڑھنا چاہیے اور کچھ نہ سہی کم از کم وہ اپنے تحفظات کا اظہار تو کرسکتے ہیں، اس باب میں ان ممالک کی مجرمانہ خاموشی فلسطینی عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غزہ امن منصوبے کے غزہ بورڈ ا ف پیس کریں گے کے لیے غزہ کی کہ غزہ گیا ہے
پڑھیں:
شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں اپنی رکنیت بحالی کے لیے باضابطہ درخواست جمع کرا دی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ زندگی کا ایک عجوبہ کام جو مجھے بہت پہلے کرنا چاہئے تھا، اب کر رہا ہوں، مجھے بار کی رکنیت 50 سال پہلے حاصل کرنی چاہیے تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ سردار رازق کے چیمبر کے ذریعے ڈسٹرکٹ بار کی رکنیت کی بحالی کی درخواست کر رکھی ہے۔
شیخ رشید نے کہا کہ ڈسٹرکٹ بار کی رکنیت بحال ہو گئی تو بار کی سیاست نہیں کروں گا، صرف اور صرف سردار رازق کے چیمبر میں بیٹھ کر پریکٹس کروں گا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
مزید :