میٹرک، انٹرامتحانات، طلبا کیلئے بائیومیٹرک حاضری لازم قرار
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
لاہور(نیوزڈیسک)لاہور بورڈ کے تحت امتحان کےلیے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلبا کی بائیومیٹرک حاضری لازمی قرار دیدی گئی۔
مراسلے کے مطابق امتحانی سنٹر میں انٹری دونوں انگوٹھوں کی ویریفکیشن کے بعد ممکن ہوگی۔ لاہور، قصور، شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب کے اسکولز، کالجز کے پرنسپلز کو طلبا کے بائیو میٹرک فنگرپرنٹس لینے کے احکامات جاری کر دیئے گئے۔
مراسلے کے مطابق امتحانی مرکز میں طلبا کی امتحان سے قبل بائیومیٹرک حاضری ہوگی، امتحان دینے والے طلباکےدونوں انگوٹھوں کے پرنٹس چیک کیے جائیں گے۔
بورڈ ہدایات کے مطابق تعلیمی ادارے کا سربراہ بائیومیٹرک ڈیوائس کابندوبست کرے گا، لاہوربورڈ کے سوفٹ ویئر پر بائیومیٹرک ڈیٹا اپ لوڈ کیا جائے گا، تمام طلبا کے دونوں انگوٹھوں کے بائیومیٹرک امپریشن لینا لازمی ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔