ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: آئی سی سی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور، پاک بھارت میچ ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
پاکستان کی ثابت قدمی پر آئی سی سی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگیا، پاکستان کا کڑی شرائط کے تحت بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میچ کے حوالے سے اگلے 24 گھنٹے میں بڑے بریک تھرو کا امکان ہے۔
پاکستان کا بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کام کرگیا، آئی سی سی خود گھٹنوں کے بل چل کر منانے آگیا۔
لاہور میں آئی سی سی، پی سی بی اور بی سی بی کے درمیان مذاکرات پانچ گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہے۔
ذرائع کے مطابق آئی سی سی نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے مطالبات پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے ورلڈکپ سے باہر کرنےکے بعد ازالے کے لیے فارمولہ تیار کر لیا ہے۔
اس حوالے سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور بنگلادیشی بورڈ کے مابین تجاویز کا تبادلہ بھی ہوا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے باہمی رابطہ کار کے فرائض سرانجام دیے۔
آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ آئی سی سی بورڈ سے تجاویز کی حتمی منظوری لیں گے۔
بنگلادیش بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی اپنی حکومت کو ڈھاکا میں مذاکرات کے حوالے سے بریف کریں گے۔
باہمی فارمولے پر اتفاق کے بعد آج دوپہر آئی سی سی اور بی سی بی میں دوبارہ رابطہ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔