پاکستان کا غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ، شہبازشریف کے واشنگٹن جانے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
امریکی صدر ٹرمپ کی زیر صدارت اجلاس 19 فروی کو منعقد ہوگا ،پاکستان کی جانب سے نمائندگی سے متعلق حتمی فیصلہ آئندہ چند دنوں میں کیا جائے گا، اراکین کو دعوت نامے ارسال کردیے گئے، ذرائع
اجلاس میں غزہ کی صورتحال، امن و استحکام سے متعلق اقدامات اور آئندہ لائحہ عمل پر غور کیا جائیگا، پاکستان کی شرکت کو خطے میں امن کے قیام کیلئے سفارتی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے،سفارتی ذرائع
پاکستان کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف کے واشنگٹن جانے کا امکان ظاہر کردیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے، اجلاس امریکی صدر کی زیر صدارت منعقد ہوگا جس میں وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت متوقع ہے اور وزیراعظم شہبازشریف کا اجلاس میں شرکت کیلئے واشنگٹن جانے کا امکان ہے، تاہم غزہ پیس بورڈ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی سے متعلق حتمی فیصلہ آئندہ چند دنوں میں کیا جائے گا۔بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کی پہلی میٹنگ بلالی جس کے لیے اراکین کو دعوت نامے ارسال کردیٔے گئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ بورڈ آف پیس کے چیٔرمین ہیں جن کی طرف سے غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی باقاعدہ میٹنگ رواں ماہ کی 19 تاریخ کو واشنگٹن میں منعقد کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں، واشنگٹن میں شیڈول اس میٹنگ کیلئے اراکین کو دعوت نامے بھی ارسال کیے جا چکے ہیں، میٹنگ کی میزبانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، بورڈ ممبران اور غزہ ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کریں گے۔معلوم ہوا ہے کہ بورڈ آف پیس کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کی تعمیر نو ہے، جس کی پہلی میٹنگ کا ایجنڈا ابھی سامنے نہیں لایا گیا تاہم امریکی میڈیا نے غزہ بورڈ کا قیام صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ غزہ ڈیل کے دوسرے حصے پر عمل قرار دیا ہے جب کہ برطانیہ، فرانس اور ناروے سمیت دیگر یورپی ممالک نے پیس بورڈ کو اقوام متحدہ کی حیثیت چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس میں شمولیت سے انکار کردیا ہے۔یاد رہے کہ پاکستان سمیت 25 ممالک اس وقت تک غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں، اس ضمن میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ غزہ میں امن قائم ہونے کی امید پر پیس بورڈ میں شمولیت اختیار کی ہے، پاکستان کو غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کی دعوت ملی تھی، وفاقی کابینہ نے غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کا اختیار دیا تھا، غزہ پیس بورڈ میں اس امید کے ساتھ شمولیت اختیارکی کہ غزہ میں امن قائم ہوگا۔انہوں نے اس حوالے سے مزید یہ بھی کہا کہ امید ہے فلسطینیوں کو عزت اور وقار کے ساتھ ان کے حقوق ملیں گے اورغزہ کی تعمیر نو ہوگی، ڈیووس کا بہت اچھا دورہ رہا، ڈیووس میں آئی ایم ایف کے ایم ڈی سے ملاقات ہوئی، ٹرمپ نے بھی ملاقات میں پاکستان کیلئے نیک خواہشات کا اظہارکیا، جنگ رکوانے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کیوں کہ جنگ رکنے پر جنوبی ایشیاء کے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچ گئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: غزہ بورڈ ا ف پیس کے اجلاس میں شرکت غزہ پیس بورڈ پیس بورڈ میں میں شمولیت پاکستان کی امریکی صدر
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔