حماس کا ہتھیار ڈالنے اور غزہ میں غیرملکی حکومت تسلیم کرنے سے صاف انکار
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260209-01-22
دوحا /واشنگٹن /اسلام آباد /غزہ /تل ابیب /موغادیشو (مانیٹرنگ ڈیسک) حماس کے سینئر رہنما خالد مشعل نے کہا ہے کہ غزہ میں کسی غیرملکی مداخلت کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہتھیار ڈالیں گے، مزاحمت جاری رہے گی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حماس نے ہتھیار ڈالنے اور غزہ پر کسی بھی غیر ملکی حکومت کو تسلیم کرنے سے واضح طور پر انکار کردیا ہے۔ دوحا میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد مشعل نے کہا کہ اسرائیل نسل کشی آسان بنانے کے لیے فلسطینیوں کے ہاتھ سے ہتھیار چھیننا چاہتا ہے، ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے، جب تک غزہ پر غاصبانہ قبضہ برقرار ہے، بھرپور مزاحمت جاری رہے گی۔ حماس کے سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ غزہ صرف فلسطینیوں کا ہے اور اس پر فلسطینی ہی حکومت کریں گے، انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ غزہ کی تعمیر نو اور امداد کے لیے متوازن راستہ نکالے لیکن فلسطینیوں پر کوئی بیرونی فیصلہ مسلط نہ کیا جائے۔غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی باضابطہ میٹنگ 19 فروری کو امریکا میں منعقد کرنے کی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں، جس کے لیے بورڈ کے اراکین کو دعوت نامے ارسال کر دیے گئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن میں واقع یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں بورڈ ممبران اور غزہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کی میزبانی کریں گے۔غزہ بورڈ آف پیس میں اب تک 25 ممالک شمولیت اختیار کر چکے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ اس بورڈ کے چیئرمین ہیں۔ دوسری جانب برطانیہ، فرانس اور ناروے سمیت کئی اہم یورپی ممالک نے اس بورڈ کو اقوام متحدہ کے کردار کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ابتدا میں اس منصوبے پر تنقید کرنے والے اسرائیلی وزیر اعظم نے بعد ازاں غزہ بورڈ آف پیس کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کر دی تھی۔ پاکستان غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت کرے گا اس حوالے سے باضابطہ فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرِ صدارت منعقد ہوگا، پاکستان کی جانب سے وزیراعظم یا نائب وزیراعظم اجلاس میں ملک کی نمائندگی کریں گے۔ اجلاس میں غزہ کی صورتحال، امن و استحکام سے متعلق اقدامات اور آئندہ لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں مسلسل 120 ویں روز بھی سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں اتوار کے روز 5 فلسطینی شہری شہید ہو گئے۔ قابض دشمن نے پورے غزہ میں فضائی حملے و گولہ باری اور فائرنگ کے ذریعے فلسطینیوں کی نسل کشی کا عمل جاری رکھا۔ اتوار کی صبح درجنوں انتہا پسند آباد کاروں نے اسرائیلی فوج کی سخت سیکورٹی میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں پر دھاوا بولا اور وہاں اپنے تلمودی عقائد کے مطابق رسومات ادا کیں۔ آباد کاروں نے باب المغاربہ کے راستے قبلہ اول میں داخل ہو کر اشتعال انگیز چکر لگائے اور مسجد کے صحنوں میں تلمودی پوجا پاٹ کر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا۔ فلسطینی میڈیا پرسنز فورم نے عالمی تنظیم “رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز’’ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر ملکی صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا مشنز کے غزہ میں داخلے پر اسرائیلی حکام کی مسلسل پابندیوں کی مذمت کے لیے ٹھوس اقدامات اور عملی اقدامات اٹھائے۔ بین الاقوامی تنظیم کو ارسال کردہ ایک حقوقِ انسانی کی یادداشت میں فورم نے اس بات پر زور دیا کہ ان منظم خلاف ورزیوں کو تنظیم کی سالانہ اور وقتاً فوقتاً جاری ہونے والی رپورٹس میں شامل کیا جانا چاہیے۔ فورم نے اس بات پر بھی توجہ دلائی کہ صحافیوں کے داخلے پر یہ مسلسل پابندی صحافتی کام کی روح پر حملہ اور عالمی معاشروں کے اس حق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کے تحت وہ فوجی پروپیگنڈے سے پاک آزادانہ معلومات تک رسائی چاہتے ہیں۔ صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے اسرائیل کی جانب سے صومالیہ میں ’مداخلت‘ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے سے عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔ عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صومالی صدر حسن شیخ محمود نے کہا کہ صومالیہ کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ صومالی لینڈ میں اسرائیلی فوجی اڈا قائم کیا جائے اور ایسی کسی بھی کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مجوزہ اسرائیلی اڈا پڑوسی ممالک پر حملوں کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔صومالی صدر حسن شیخ محمود نے اسرائیل کی سفارتی حکمت عملی کو غیر ذمہ دارانہ، غلط اور بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی اقدام قرار دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صومالی لینڈ میں اسرائیلی فوجی موجودگی کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غزہ بورڈ ا ف پیس کیا جائے کریں گے نے کہا کے لیے
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
پشاور (نیوز ڈیسک) سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی، پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی سرکاری پنشنرز کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
حکومتی اعلامیے میں کہا گیا کہ پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا اور اس سے تمام صوبائی سرکاری پنشنرز مستفید ہو سکیں گے۔
محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں پنشن میں اضافے کے حوالے سے اہم نکات اور شرائط واضح کی گئی ہیں۔
جس میں کہا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ 30 جون 2026 تک حاصل کردہ نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا اور یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے کے حقدار ہوں گے۔
یہ اضافہ فیملی پنشن اور کمپیشنٹ الاؤنس کے کیسز پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم صوبائی حکومت کے اہل پنشنرز بھی مقررہ شرائط و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ پہلے سے ملنے والی کسی بھی “خصوصی اضافی پنشن” پر لاگو نہیں ہوگا۔
خیبرپختونخوا حکومت کے اس اقدام کو صوبے کے لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے موجودہ معاشی صورتحال میں ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے