ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کرکٹ کا ایک بڑا اور دلچسپ ایونٹ سمجھا جاتا ہے، جس میں بڑے مقابلے شائقین کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کھیل کے بجائے سیاسی تنازعات کی وجہ سے خبروں میں آ گیا ہے۔

بھارت اور سری لنکا کی میزبانی میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ سے بنگلادیش نے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔

بنگلادیش نے بھارت میں کھیلنے سے انکار کیا، جس کے بعد اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا۔

بنگلادیش کرکٹ بورڈ کا کہنا تھا کہ بھارت میں ٹیم کی سیکیورٹی پر خدشات ہیں، تاہم آئی سی سی نے ان خدشات کو تسلیم نہیں کیا۔

اس کے بعد پاکستان نے بھی بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا، جو 15 فروری کو سری لنکا میں ہونا تھا۔

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ فیصلہ بنگلادیش کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کھیل کو سیاست سے دور رہنا چاہیے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ کو دنیا کا سب سے بڑا کرکٹ مقابلہ سمجھا جاتا ہے، جسے کروڑوں لوگ دیکھتے ہیں۔

اس میچ کے نہ ہونے سے آئی سی سی کو بھاری مالی نقصان ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میچ سے بہت زیادہ آمدن ہوتی ہے۔

امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ برصغیر میں کرکٹ ہمیشہ سے سیاست سے جڑی رہی ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان کئی دہائیوں سے سیاسی کشیدگی موجود ہے، جس کی وجہ سے دونوں ٹیمیں دو طرفہ سیریز نہیں کھیلتیں۔

اسی طرح بنگلادیش میں حالیہ سیاسی حالات اور بھارت سے تعلقات میں کشیدگی نے بھی کرکٹ کو متاثر کیا ہے۔

بھارت اس وقت عالمی کرکٹ میں سب سے طاقتور ملک ہے اور آئی سی سی کی آمدن کا بڑا حصہ وہی فراہم کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بھارت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کرکٹ کے مفاد کو ترجیح دے۔

بنگلادیش کی عدم شرکت اور پاک بھارت میچ کا نہ ہونا اس ورلڈ کپ کی اہمیت کو کم کر رہا ہے، جس سے شائقین اور عالمی کرکٹ دونوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا