ٹی20 ورلڈ کپ میں پاک-بھارت میچ کا فیصلہ ہوگیا، ’پاکستان کے بغیر کچھ ممکن نہیں، ایک بار پھر ثابت ہوگیا‘
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
حکومتِ پاکستان نے قومی کرکٹ ٹیم کو آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد شائقینِ کرکٹ کی جانب سے مختلف ردِعمل سامنے آ رہے ہیں جب کہ کئی حلقوں نے اس معاملے میں پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار کو سراہا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بالآخر آئی سی سی نے اپنی ساکھ کھو دی ہے۔ پورا بھارت میچ کے لیے پاکستان کی منتیں کر رہا تھا اور اب پاکستان 15 فروری کو ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میدان میں اترے گا۔
Finally @ICC lost credibility ( EGO)
Pakistan will play against India on Feb 15 #T20WorldCup .
Australia England South Africa was silent . They don't care money .#PakvsIndia pic.twitter.com/03bEg8AG8L
— Karl Haque (@karlhaque) February 9, 2026
مزمل نامی صارف نے کہا کہ محسن نقوی کمال کرتا جا رہا ہے۔ آئی سی سی کے ساتھ میٹنگ کے لیے بنگلہ دیش کے صدر کو پاکستان بلایا اور اسے ساتھ بیٹھا کر آئی سی سی کے ڈپٹی چئیرمین ساتھ میٹنگ کی بسنت کی خوشیوں میں بھی شامل کیا۔
محسن نقوی کمال کرتا جا رہا
آئی سی سی ساتھ میٹنگ کے لیے بنگلہ دیش کے صدر کو پاکستان بُلایا اسے ساتھ بیٹھا کر ICC کے ڈپٹی چئیرمین ساتھ میٹنگ کی بسنت کی خوشیوں میں شامل کیا اور اب محسن نقوی بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کو خود ائیرپورٹ پر چھوڑنے آیا pic.twitter.com/C8e8gOTEjN
— Muzamil (@muzamil_45) February 9, 2026
فیضان لاکھانی نے لکھا کہ جب ایک ایسے ملک کا صدر عوامی سطح پر آپ کا شکریہ ادا کر رہا ہو اور وہ بھی ایسے میچ کے لیے جس میں اس کی اپنی ٹیم نہ کھیل رہی ہو تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ سب کھیل سے کہیں بڑا معاملہ تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے پاکستانی کی کرکٹ کی دنیا میں اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے حکومتی مداخلت کی ضرورت کیوں تھی۔
When a head of state publicly thanks Pakistan for agreeing to play a match that doesn’t even involve his own team, it’s clear this was bigger than sport. It highlights Pakistan’s importance in world cricket and shows how government-level intervention was needed to resolve a… https://t.co/UBGxiC9Q68
— Faizan Lakhani (@faizanlakhani) February 9, 2026
نعمت خان نے لکھا کہ پاکستان عالمی کرکٹ کا دل ہے اور پاکستان کے بغیر کرکٹ نامکمل ہے۔ بھارت اور آئی سی سی نے خود یہ ثابت کر دیا ہے۔
Pakistan is the heart of world cricket; there is no cricket without Pakistan. India and the ICC have proven that. Proud to be Pakistani. Long live Pakistan, long live Bangladesh. ????????????????
— Naimat Khan (@NKMalazai) February 9, 2026
اسد نثار کہتے ہیں کہ پاکستان جیت گیا، پاکستان کے بنا انٹرنیشنل کرکٹ نہیـں ہو سکتی۔ پاکستان نے آئی سی سی سے ساری شرطیں منوا لیں ہیں۔
پاکستان جیت گیا، پاکستان کے بنا انٹرنیشنل کرکٹ نہیـں ہو سکتی، پاکستان نے آئی سی سی کی ناک رگڑوا دی ہے۔ ساری شرطیں منوا لیں۔
انڈین میڈیا رونے لگا، یہ تو ہماری ہار ہے۔ ???? pic.twitter.com/J5tKre3tBn
— أســـد نثـار (@AsadViews) February 9, 2026
واضح رہے کہ اس سے قبل بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے بھارت میں منعقد ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے میچز کے وینیوز تبدیل کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم آئی سی سی نے یہ درخواست مسترد کر دی تھی۔
اس فیصلے پر بنگلادیش نے احتجاجاً ایونٹ سے دستبرداری کا اعلان کیا، جس کے بعد آئی سی سی نے بنگلادیش سے مذاکرات کے بجائے اسے ٹورنامنٹ سے خارج کرتے ہوئے اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا۔
بعد ازاں پاکستان نے آئی سی سی کے اس اقدام کو دہرا معیار قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور بنگلادیش کے ساتھ یکجہتی کے طور پر بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، تاہم اب حکومت کی اجازت کے بعد پاکستان کی ٹیم بھارت کے خلاف میچ کھیلے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان انڈیا میچ پاکستان میچ ٹی 20
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان انڈیا میچ پاکستان میچ ٹی 20 بھارت کے خلاف ٹی20 ورلڈ کپ ساتھ میٹنگ پاکستان نے پاکستان کے کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔