مرکزی شوریٰ کاملک میں جاری بدترین دہشت گردی پر اظہار تشویش‘ مذاکرات ہی مسائل کا حل قرار
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی صدارت میں منعقدہ مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس نے ملک کے اندر دہائیوں سے جاری بدترین دہشت گردی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیںبلکہ مذاکرات سے مسائل کیے جائیں۔ مجلس شوریٰ نے ملک کے معاشی بحران کو پالیسیوں کی ناکامی قرار دیا ہے۔اجلاس نے متفقہ قرارداد کے ذریعے عالمی برادری، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بالخصوص اس کے مستقل ارکان سے مطالبہ کیا کہ غزہ میں حقیقی اورمستقل جنگ بندی کو یقینی بنائیں اور معصوم شہریوں کا قتل عام رکوائیں۔تفصیلات کے مطابق مجلس شوریٰ کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ملک بالخصوص خیبر پختونخوا مزید کسی بھی فوجی آپریشن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ سیاسی حکمران اور سیاسی جماعتیں متفقہ طور پر مقتدرہ کو آئینی حدود میں محدود کرنے پر اتفاق کریں۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وقتی مفاہمتوں، غیر واضح حکمت عملی اور دہرے معیارات پر مبنی اقدامات نہ صرف ریاستی رِٹ کو کمزور کرتے ہیں بلکہ انتہاپسند عناصر کو دوبارہ منظم ہونے اور اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس وقت پاکستان اور افغانستان شدید قسم کے تنازعات کی زد میں ہیں۔دونوں حکومتیں مل بیٹھ کر بات چیت سے مسائل کا حل نکالیں۔ تحریک طالبان پاکستان، امارتِ اسلامی افغانستان کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔داعش خراسان، افغانستان اور پاکستان دونوں کا مسئلہ ہے۔ اس حوالے سے ایک دوسر ے پر الزامات کے بجائے مل کر اس مسئلے کا حل نکالیں۔ اجلاس نے تیراہ میں شدید برف باری اور سخت سرد موسم کے باوجود جاری فوجی آپریشن پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ تیراہ میں جاری فوجی آپریشن کو فوری طور پر روکا جائے۔بے گھر ہونے والے افراد کی باعزت اور محفوظ واپسی کے ساتھ ساتھ ان کے جانی و مالی نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے۔اجلاس اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پائیدار امن کا قیام صرف انصاف کی فراہمی، عوام کے اعتماد کی بحالی اور آئینی و بنیادی حقوق کے مکمل احترام سے ہی ممکن ہے۔قراردداد میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی اور بدامنی میں بیرونی مداخلت سے زیادہ حکمرانوں کی نااہلی اور نالائقی اور سیکورٹی فورسز کے طاقت کے ناجائز استعمال کی وجہ سے پیدا شدہ حالات ہیں۔ بلوچستان میں مشرقی پاکستان جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، اس میں دشمن کی عیاری بھی شامل ہے لیکن دوستوں کی زیادتیاں اور اپنے ہی شہریوں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ بلوچستان کے عوام کو سینے سے لگایا جائے، لاپتا افراد کو بازیاب کیا جائے، لوگوں کو انصاف فراہم کیا جائے، بلوچستان کے حقوق تسلیم کیے جائیں، جعلی لیڈر لانے کی کوشش نہ کی جائے، بلوچستان کے حقیقی نمائندوں سے بات کی جائے۔ طاقت کا استعمال بند کیا جائے۔ نوجوانوں کو روزگار دیا جائے ۔ اجلاس نے خبردار کیا کہ اگر مسائل کا فوری اور منصفانہ حل نہ نکالا گیا تو حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔مجلس شوریٰ نے اسلام آباد کی حالیہ امن و امان کی صورتِ حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ایک جامع، مربوط اور قابل عمل منصوبہ فوری طور پر مرتب کیا جائے۔ مزید برآں پولیس فورس کو وی آئی پی اور پروٹوکول ڈیوٹیوں سے ہٹا کر اس کی بنیادی ذمے داری یعنی عوام کی حفاظت اور جرائم کی روک تھام پر مامور کیا جائے، تاکہ دارالحکومت سمیت پورے ملک میں شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔اجلاس میں کہا گیا ہے معاشی بحران وقتی یا تکنیکی نوعیت کا نہیں بلکہ طرزِ حکمرانی، معاشی پالیسی اور آئینی عملداری کی گہری اور مسلسل ناکامی کا نتیجہ ہے۔ مجلس شوریٰ نے نشاندہی کی ہے کہ مالیاتی اشاریوں میں عارضی بہتری بالواسطہ ٹیکسوں، ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی اور مقررہ آمدنی والے طبقے پر بوجھ ڈال کر حاصل کی گئی، جبکہ شاہانہ سرکاری اخراجات اور ساختی اصلاحات کو نظرانداز کیا گیا۔ قرضوں کی ادائیگی عوامی وسائل کا بڑا حصہ کھا رہی ہے، جس سے تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی معاشی ابتری کی بنیادی وجہ سود پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام ہے۔مجلس شوریٰ نے تعلیمی نظام کو ملکی معیشت سے کٹا ہوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر متعلقہ ڈگریاں بے روزگار نوجوان پیدا کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں برین ڈرین بڑھ رہا ہے۔ قرارداد میں زرعی تحقیق، توانائی پالیسی، معدنیات، قیمتی پتھروں، دواؤں کے پودوں اور بحیرۂ عرب کے وسائل کو مسلسل نظرانداز کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ خاص طور پر سستی اور صاف توانائی یعنی سولر کی حوصلہ شکنی کو قومی مفاد کے خلاف قرار دیا گیا۔مجلس شوریٰ نے تمام منتخب نمائندگان اور اعلیٰ سرکاری افسران کے لیے واضح اہداف، عوامی کارکردگی اسکور کارڈز اور نتائج پر مبنی احتساب کا مطالبہ کیا ہے ۔ مزید برآں مجلس شور یٰ نے اہل غزہ وفلسطین کی عظیم الشان قربانیوں ،ان کی جدوجہد اور عزم و ہمت کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے ۔ اجلاس کی رائے میں ’’معاہدہ امن‘‘ کے باوجودحقیقت یہ ہے کہ غزہ اس وقت بھی شدید محاصرے میں ہے جبکہ اسرائیل کی طرف سے نہتے شہریوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔دستیاب شواہد کی روشنی میں یہ ہدف واضح ہے کہ امن کونسل کے قیام کے ذریعے خطے میں اسرائیل کی برتری کو جاری رکھا جاسکے، حماس کی مزاحمتی تحریک کو ختم کیاجاسکے اور یوں اسرائیل کاناجائز تسلط قائم رہ سکے اور فلسطینی اتھارٹی کو بھی لاتعلق رکھاجاسکے۔اجلاس نے غزہ کی تمام راہداریاں بشمول رفح کراسنگ کھولنے ، جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے اور اسلامی سربراہی کانفرنس یہ ذمے داری یاد دلائی ہے کہ ICCکے فیصلے کے مطابق نیتن یاہو اور اس کے 2 ساتھیوں کے خلاف جنگی جرائم کے حوالے سے گرفتاری کے وارنٹ ہیں اور اپنی اپنی ملکی حدود میں ان کی ذمے داری ہے کہ اگر یہ مجرم ان حدود میں داخل ہوںتو ان کی گرفتاری کا اہتمام کریں۔مرکزی مجلس شوریٰ آزادفلسطین اسلامی ریاست کے قیا م کو مسئلہ فلسطین کا حل سمجھتی ہے غزہ میں امن و امان کے قیام میں اگر حماس کے خلاف آئی ایس ایف کو سرگرم کیاجائے اور اس میں پاکستانی فوج بھی شامل ہو تو یہ بہت خطرناک اقدام ہوگا۔ حکومت پاکستان عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کرکے فلسطینیوں کی نسل کشی پر مقدمہ چلاکر سزادلوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔مجلس شوریٰ نے دنیا بھر کے آزاد ممالک ، انصاف پسند عوام اورتنظیموں اوراسلامی تحریکات اور پاکستان کے عوام کی تحسین کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تشویش کا اظہار میں کہا گیا ہے مطالبہ کیا ہے فوجی ا پریشن کیا جائے اجلاس نے مسائل کا اور اس کے لیے
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،