data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی صدارت میں منعقدہ مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس نے ملک کے اندر دہائیوں سے جاری بدترین دہشت گردی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیںبلکہ مذاکرات سے مسائل کیے جائیں۔ مجلس شوریٰ نے ملک کے معاشی بحران کو پالیسیوں کی ناکامی قرار دیا ہے۔اجلاس نے متفقہ قرارداد کے ذریعے عالمی برادری، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بالخصوص اس کے مستقل ارکان سے مطالبہ کیا کہ غزہ میں حقیقی اورمستقل جنگ بندی کو یقینی بنائیں اور معصوم شہریوں کا قتل عام رکوائیں۔تفصیلات کے مطابق مجلس شوریٰ کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ملک بالخصوص خیبر پختونخوا مزید کسی بھی فوجی آپریشن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ سیاسی حکمران اور سیاسی جماعتیں متفقہ طور پر مقتدرہ کو آئینی حدود میں محدود کرنے پر اتفاق کریں۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وقتی مفاہمتوں، غیر واضح حکمت عملی اور دہرے معیارات پر مبنی اقدامات نہ صرف ریاستی رِٹ کو کمزور کرتے ہیں بلکہ انتہاپسند عناصر کو دوبارہ منظم ہونے اور اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس وقت پاکستان اور افغانستان شدید قسم کے تنازعات کی زد میں ہیں۔دونوں حکومتیں مل بیٹھ کر بات چیت سے مسائل کا حل نکالیں۔ تحریک طالبان پاکستان، امارتِ اسلامی افغانستان کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔داعش خراسان، افغانستان اور پاکستان دونوں کا مسئلہ ہے۔ اس حوالے سے ایک دوسر ے پر الزامات کے بجائے مل کر اس مسئلے کا حل نکالیں۔ اجلاس نے تیراہ میں شدید برف باری اور سخت سرد موسم کے باوجود جاری فوجی آپریشن پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ تیراہ میں جاری فوجی آپریشن کو فوری طور پر روکا جائے۔بے گھر ہونے والے افراد کی باعزت اور محفوظ واپسی کے ساتھ ساتھ ان کے جانی و مالی نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے۔اجلاس اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پائیدار امن کا قیام صرف انصاف کی فراہمی، عوام کے اعتماد کی بحالی اور آئینی و بنیادی حقوق کے مکمل احترام سے ہی ممکن ہے۔قراردداد میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی اور بدامنی میں بیرونی مداخلت سے زیادہ حکمرانوں کی نااہلی اور نالائقی اور سیکورٹی فورسز کے طاقت کے ناجائز استعمال کی وجہ سے پیدا شدہ حالات ہیں۔ بلوچستان میں مشرقی پاکستان جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، اس میں دشمن کی عیاری بھی شامل ہے لیکن دوستوں کی زیادتیاں اور اپنے ہی شہریوں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ بلوچستان کے عوام کو سینے سے لگایا جائے، لاپتا افراد کو بازیاب کیا جائے، لوگوں کو انصاف فراہم کیا جائے، بلوچستان کے حقوق تسلیم کیے جائیں، جعلی لیڈر لانے کی کوشش نہ کی جائے، بلوچستان کے حقیقی نمائندوں سے بات کی جائے۔ طاقت کا استعمال بند کیا جائے۔ نوجوانوں کو روزگار دیا جائے ۔ اجلاس نے خبردار کیا کہ اگر مسائل کا فوری اور منصفانہ حل نہ نکالا گیا تو حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔مجلس شوریٰ نے اسلام آباد کی حالیہ امن و امان کی صورتِ حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ایک جامع، مربوط اور قابل عمل منصوبہ فوری طور پر مرتب کیا جائے۔ مزید برآں پولیس فورس کو وی آئی پی اور پروٹوکول ڈیوٹیوں سے ہٹا کر اس کی بنیادی ذمے داری یعنی عوام کی حفاظت اور جرائم کی روک تھام پر مامور کیا جائے، تاکہ دارالحکومت سمیت پورے ملک میں شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔اجلاس میں کہا گیا ہے معاشی بحران وقتی یا تکنیکی نوعیت کا نہیں بلکہ طرزِ حکمرانی، معاشی پالیسی اور آئینی عملداری کی گہری اور مسلسل ناکامی کا نتیجہ ہے۔ مجلس شوریٰ نے نشاندہی کی ہے کہ مالیاتی اشاریوں میں عارضی بہتری بالواسطہ ٹیکسوں، ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی اور مقررہ آمدنی والے طبقے پر بوجھ ڈال کر حاصل کی گئی، جبکہ شاہانہ سرکاری اخراجات اور ساختی اصلاحات کو نظرانداز کیا گیا۔ قرضوں کی ادائیگی عوامی وسائل کا بڑا حصہ کھا رہی ہے، جس سے تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی معاشی ابتری کی بنیادی وجہ سود پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام ہے۔مجلس شوریٰ نے تعلیمی نظام کو ملکی معیشت سے کٹا ہوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر متعلقہ ڈگریاں بے روزگار نوجوان پیدا کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں برین ڈرین بڑھ رہا ہے۔ قرارداد میں زرعی تحقیق، توانائی پالیسی، معدنیات، قیمتی پتھروں، دواؤں کے پودوں اور بحیرۂ عرب کے وسائل کو مسلسل نظرانداز کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ خاص طور پر سستی اور صاف توانائی یعنی سولر کی حوصلہ شکنی کو قومی مفاد کے خلاف قرار دیا گیا۔مجلس شوریٰ نے تمام منتخب نمائندگان اور اعلیٰ سرکاری افسران کے لیے واضح اہداف، عوامی کارکردگی اسکور کارڈز اور نتائج پر مبنی احتساب کا مطالبہ کیا ہے ۔ مزید برآں مجلس شور یٰ نے اہل غزہ وفلسطین کی عظیم الشان قربانیوں ،ان کی جدوجہد اور عزم و ہمت کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے ۔ اجلاس کی رائے میں ’’معاہدہ امن‘‘ کے باوجودحقیقت یہ ہے کہ غزہ اس وقت بھی شدید محاصرے میں ہے جبکہ اسرائیل کی طرف سے نہتے شہریوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔دستیاب شواہد کی روشنی میں یہ ہدف واضح ہے کہ امن کونسل کے قیام کے ذریعے خطے میں اسرائیل کی برتری کو جاری رکھا جاسکے، حماس کی مزاحمتی تحریک کو ختم کیاجاسکے اور یوں اسرائیل کاناجائز تسلط قائم رہ سکے اور فلسطینی اتھارٹی کو بھی لاتعلق رکھاجاسکے۔اجلاس نے غزہ کی تمام راہداریاں بشمول رفح کراسنگ کھولنے ، جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے اور اسلامی سربراہی کانفرنس یہ ذمے داری یاد دلائی ہے کہ ICCکے فیصلے کے مطابق نیتن یاہو اور اس کے 2 ساتھیوں کے خلاف جنگی جرائم کے حوالے سے گرفتاری کے وارنٹ ہیں اور اپنی اپنی ملکی حدود میں ان کی ذمے داری ہے کہ اگر یہ مجرم ان حدود میں داخل ہوںتو ان کی گرفتاری کا اہتمام کریں۔مرکزی مجلس شوریٰ آزادفلسطین اسلامی ریاست کے قیا م کو مسئلہ فلسطین کا حل سمجھتی ہے غزہ میں امن و امان کے قیام میں اگر حماس کے خلاف آئی ایس ایف کو سرگرم کیاجائے اور اس میں پاکستانی فوج بھی شامل ہو تو یہ بہت خطرناک اقدام ہوگا۔ حکومت پاکستان عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کرکے فلسطینیوں کی نسل کشی پر مقدمہ چلاکر سزادلوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔مجلس شوریٰ نے دنیا بھر کے آزاد ممالک ، انصاف پسند عوام اورتنظیموں اوراسلامی تحریکات اور پاکستان کے عوام کی تحسین کی ہے۔

 

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تشویش کا اظہار میں کہا گیا ہے مطالبہ کیا ہے فوجی ا پریشن کیا جائے اجلاس نے مسائل کا اور اس کے لیے

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ