ناٹو کا آرکٹک میں عسکری موجودگی بڑھانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ٹرمپ کی گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیوں کے بعد بعض اتحادی ممالک نے خطے میں ناٹو کی موجودگی بڑھانے کی تجویز دی تھی۔ ناٹو کی جانب سے اس منصوبے کو آرکٹک سینٹری کا نام دیا گیا ہے۔ شمالی بحر منجمد شمالی اور اس سے ملحقہ خطے میں گرین لینڈ کے تنازع کے باعث امریکا اور یورپی اتحادیوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد ناٹو نے خطے میں اپنی موجودگی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ناٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر یورپ جنرل الیکسس جی گرینکیوچ نے کہا کہ آرکٹک سینٹری‘ نامی یہ اقدام ناٹو کی طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے ہمارے علاقے کے تحفظ اور آرکٹک و ہائی نارتھ کو محفوظ رکھنے کو یقینی بنائے گا۔ان کے مطابق آرکٹک سینٹری کا مقصد اتحادی ممالک کا دفاع کرنا اور دنیا کے ایک انتہائی اسٹریٹجک اور ماحولیاتی طور پر چیلنجنگ خطے میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعض مواقع پر ڈنمارک کے زیر انتظام اس جزیرے کو ضم کرنے کی دھمکی دی تھی اور موقف اختیار کیا تھا کہ بصورت دیگر روس یا چین اسے اپنے قبضے میں لے سکتے ہیں۔جنوری میں ناٹو کے سکریٹری جنرل مارک ْروٹے سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ گرین لینڈ اور پورے آرکٹک خطے سے متعلق مستقبل کے ایک معاہدے کا فریم ورک تیار کر لیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا رکٹک
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔