data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260213-03-2
وطن عزیز میں جس بھی فرد سے بات کیجیے وہ خود کو اللہ تعالیٰ کا عاجز بندہ، نبی آخر الزماں رسول کریم محمد مصطفیؐ کا عاشق صادق، آپ کے صحابہ کرامؓ اور اہل بیت اطہار کا مطیع و تابع فرمان قرار دیتا ہے مگر اسے بدقسمتی کے سوا کیا نام دیا جائے کہ ہمارا ذاتی کردار ان دعوئوں کے قطعی برعکس پایا جاتا ہے۔ قول و فعل کے اس تضاد کی مثالیں معاشرے میں چلتے پھرتے ہر قدم پر دیکھی جا سکتی ہیں اور جب اس جانب متوجہ کیا جائے تو جواب ملتا ہے کہ ہمیں اپنے اسلام اور ایمان کے لیے کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ ہمارے ارباب اقتدار جنہیں عوام کے لیے نمونہ ہونا چاہیے کہ عربی محاورہ کے مطابق ’’الناس علی دین ملوکہم‘‘۔ عوام اپنے حکمرانوں کی پیروی کرتے ہیں مگر ہمارے حکمران طبقہ کا کردار وزیروں مشیروں سمیت ملک کے ایک کثیر الاشاعت اخبار کی اس خبر میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ اخبار کے مطابق ’’سندھ اسمبلی کے ایک اقلیتی رکن کے مطالبے نے مسلمان اراکین کو مشکل میں ڈال دیا۔ ہندو رکن نے شراب کی خرید وفروخت پر پابندی کا مطالبہ کر دیا لیکن مسلمان اراکین نے اس کی مخالفت کر دی، صوبائی وزیر نے موقف اختیار کیا کہ شراب کی خرید و فروخت سے ایک بہت بڑا طبقہ محروم ہو جائے گا، حکومتی اراکین نے صوبائی وزیر کا یہ موقف تسلیم کرتے ہوئے قرار داد مسترد کر دی، ایم کیو ایم کے اقلیتی رکن انیل کمار نے بتایا کہ اقلیت کے نام پر سندھ میں شراب کے اسٹور کھلے ہیں، شراب ایک معاشرتی برائی ہے، تمام مذاہب میں اس کی ممانعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں شراب کی خرید و فروخت کا تمام کاروبار غیر قانونی ہے، شراب کی فروخت کے نام پر اقلیتوں کو بدنام کیا جا رہا ہے، عوام کے لیے میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ کراچی میں چھوٹے بڑے 57 مندر ہیں لیکن کراچی میں شراب کے 80 اسٹور ہیں، یہ وائن اسٹور صرف مذہبی تہوار پر شراب فروخت کر سکتے ہیں لیکن ان پر خرید و فروخت 365 روز جاری رہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منگل کو میری جانب سے قرار داد پیش کی گئی تو اپوزیشن نے اس کی حمایت کی لیکن افسوس حکومتی بینچوں نے اس کی مخالفت کی۔ انیل کمار نے بتایا کہ میں نے اپنی ایک نجی قرار داد کے ذریعے مطالبہ کیا تھا کہ شراب ایک معاشرتی برائی ہے، کسی مذہب میں اس کی اجازت نہیں صوبے بھر میں شراب کی خرید اور فروخت پر پابندی عائد کی جائے اور شراب خانوں کے تمام لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ اس کے جواب میں وزیر قانون و داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ آج میرے دوست تھوڑے سے جذباتی لگ رہے ہیں، اس سے ایک بہت بڑا طبقہ محروم ہو جائے گا، جس پر اسپیکر نے رائے لی تو حکومتی اراکین نے اس کی مخالفت کی اور ایوان نے قرار داد مسترد کر دی۔ سندھ اسمبلی کے اکثریتی ارکان کے اس طرز عمل کو نرم سے نرم الفاظ میں بھی شرمناک اور المناک ہی قرار دیا جا سکتا ہے بقول مصور پاکستان، شاعر مشرق علامہ اقبالؒ ’’یہ مسلماں ہیں، جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود‘‘۔ آئین پاکستان میں واضح الفاظ میں درج ہے کہ قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون سازی مملکت خداداد، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نہیں کی جا سکتی اور ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا اِلہ الا اللہ‘‘ کے نعرے پر وجود میں آنے والے اس ملک میں یہ بتانے کی تو ضرورت نہیں ہونا چاہیے کہ قرآن حکیم اور احادیث مبارکہ میں شراب کے استعمال کو حرام ہی قرار نہیں دیا گیا بلکہ اس کی خرید و فروخت میں ملوث ہونے پر بھی انتہائی شدید وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ پھر قرآن حکیم میں جگہ جگہ اور بار بار اللہ اور اس کے رسول مکرمؐ کی نافرمانی کرنے والوں سے متعلق سخت اور دوٹوک احکام نازل فرمائے گئے ہیں سورۂ الاحزاب کی آیت 36 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: ’’کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولؐ کسی معاملہ کا فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے اس معاملہ میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا۔ ارکان اسمبلی کی طرف سے کسی قرار داد کی حمایت یا مخالفت ان کی جانب سے معاملہ زیر بحث میں سفارش کی حیثیت رکھتی ہے چنانچہ ربّ کائنات کا فیصلہ اس ضمن میں بھی واضح ہے۔ سورۂ النساء کی آیت 85 میں فرمان الٰہی ہے کہ: ’’جو بھلائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے۔ سورۂ المائدہ میں تو پے در پے فیصلہ کن احکام نازل فرمائے گئے ہیں آیت 44 کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ: ’’اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑ دو۔ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں‘‘۔ آیت 45 کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔ آیت 47 کا اختتامی جملہ کچھ یوں ہے: ’’اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں‘‘۔ یہ کسی انتہا پسند، جذباتی انسان کے احکام نہیں۔ رب رحمن کے فرمودات ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے کافر ہیں، ظالم ہیں، فاسق ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور اسمبلی میں اس کے ارکان کی اکثریت ہے افسوس کہ پارٹی کے ان ارکان میں سے کسی ایک کا بھی جذبہ ایمانی بیدار نہیں ہوا۔ قرار داد کی مخالفت میں ووٹ دیتے ہوئے کسی ایک کے ضمیر نے بھی کچوکا نہیں لگایا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیںاس کے مرتکب سے متعلق ربّ رحیم و کریم نے کس قدر سخت لہجہ میں ’’کافر، ظالم اور فاسق‘‘ ہونے کے فیصلہ کن ارشادات فرمائے ہیں۔ اقلیتی رکن اسمبلی کی قرار داد کی مخالفت کرنے والے اب بھی ٹھنڈے دل سے اپنے اس عمل کا جائزہ لیں تو شاید تلافی ناممکن نہیں! پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کے لیے اس معاملہ میں اس حوالے سے غور بھی ضروری ہے کہ ان کی جماعت کے چار نکاتی ایجنڈے کا پہلا نکتہ یہی ہے کہ ’’اسلام ہمارا دین ہے!‘‘ سوال یہ ہے کہ پارٹی ایجنڈے کے اولین اور اہم ترین نکتے سے اس قدر توہین آمیز سلوک کس حد تک روا اور مناسب ہے۔ اسی طرح انہیں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ شراب پر پابندی، جس طرح کے حالات میں بھی سہی، بہر حال پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین نے بطور وزیر اعظم خود لگائی تھی جسے اب غیر موثر بنا دیا گیا ہے۔ کیا سندھ اسمبلی کے ارکان نے اپنے طرز عمل سے بانی چیئرمین کی روح کے لیے سکون کا سامان کیا ہے یا اذیت کا؟ یہاں اس امر کا تذکرہ بھی شاید مناسب نہ ہو گا کہ حزب اختلاف کے ارکان نے اب اگرچہ شراب پر پابندی کی قرار داد کی حمایت کی ہے مگر جب ان کے پاس اقتدار اور کچھ کر گزرنے کا موقع تھا تو 2018ء میں قومی اسمبلی میں ہندو اقلیتی رکن اسمبلی کی ایسی ہی قرار داد کو حکومتی ارکان نے مسترد کر دیا تھا!!
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قانون کے مطابق فیصلہ نہ نے اس کی مخالفت شراب کی خرید قرار داد کی اقلیتی رکن پر پابندی اسمبلی کے کی خرید کے ارکان کے لیے اور اس
پڑھیں:
بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
فائل فوٹونیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 1 روپیہ 73 پیسے بجلی مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نیپرا نے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کراچی سمیت ملک بھر کےلیے بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔
نیپرا اعلامیے کے مطابق سی پی پی اے کی اپریل کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔