ملک میں نظامِ صحت کا بحران آخری حد پر، قومی طبی ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ملک کے نظامِ صحت کو شدید بحران سے دوچار قرار دیتے ہوئے فوری طور پر قومی طبی ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق پی ایم اے ہاؤس میں ہنگامی پریس بریفنگ کے دوران رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو عوامی صحت کا ڈھانچہ مکمل طور پر بیٹھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض پالیسی گفتگو نہیں بلکہ ایک قومی المیہ ہے جسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق 25 کروڑ 70 لاکھ سے زائد آبادی والے ملک میں صحت پر سرکاری اخراجات جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہیں، جو عالمی معیار سے کہیں نیچے ہے۔
صورتحال اس قدر تشویشناک ہے کہ اوسطاً 2500 مریضوں پر صرف ایک نرس دستیاب ہے۔ رواں برس 3 ہزار سے زائد ماہر ڈاکٹرز بیرونِ ملک جا چکے ہیں، جب کہ دیہی علاقوں کے تقریباً 45 فیصد بنیادی مراکز صحت غیر فعال پڑے ہیں۔ شہری اسپتالوں میں ڈاکٹرز کو تشدد اور عدم تحفظ کا سامنا ہے، جس سے پیشہ ورانہ ماحول مزید خراب ہو رہا ہے۔
پی ایم اے کے مطابق بڑے شہروں کے اسپتالوں میں داخل ہونے والے 40 فیصد مریض آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح پولیو اور ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ جیسے امراض دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں۔ ملک میں 3 کروڑ 40 لاکھ افراد ذیابیطس میں مبتلا ہیں جب کہ چھاتی کے کینسر کی شرح ایشیا میں بلند ترین سطح پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی بھی سنگین رخ اختیار کر چکی ہے اور لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 501 تک پہنچنے کی نشاندہی کی گئی۔ روزانہ سیکڑوں نومولود اور درجنوں مائیں قابلِ علاج وجوہات کے باعث جان سے ہاتھ دھو رہی ہیں۔
پی ایم اے کی پریس کانفرنس میں مزید کہا گیا کہ ادویات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے مریضوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بلڈ پریشر، شوگر اور دمہ کی دواؤں کی قیمتوں میں تقریباً 45 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا جب کہ انسولین سمیت 80 ضروری ادویات کی قلت کا سامنا ہے۔
پی ایم اے نے مطالبہ کیا کہ صحت کا بجٹ کم از کم 3 فیصد تک بڑھایا جائے، جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں منجمد کی جائیں، ہیلتھ کیئر ورکرز پر حملوں کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جائے اور صاف پانی کی فراہمی کو قومی ترجیح بنایا جائے تاکہ نظام کو تباہی سے بچایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ایم اے
پڑھیں:
پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
سٹی 42 : فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی ملاقات ہوئی ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے بلوچستان میں پائیدار امن قائم ہوگا۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ہدفی کارروائیاں مکمل عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان اور عوام کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد نیٹ ورک کا ہر صورت خاتمہ کیا جائے گا، بیرونی سرپرستی میں چلنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی اور عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دشمن کے مذموم عزائم کو مسلح افواج اور پاکستانی عوام کے اتحاد و استقامت سے ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت اور ثابت قدم عوام صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی منصوبے بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوامی اور جامع حکمت عملی کے تحت جاری ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی یکجہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔