WE News:
2026-06-02@20:42:25 GMT

کروڑوں کی کمائی کے باوجود راجپال یادیو کنگال کیسے ہوگئے؟

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

کروڑوں کی کمائی کے باوجود راجپال یادیو کنگال کیسے ہوگئے؟

بالی ووڈ کے معروف اداکار راجپال یادو نے گزشتہ ہفتے خود کو دہلی پولیس کے حوالے کر دیا اور فی الحال تہار جیل میں قید ہیں کیونکہ وہ 9 کروڑ روپے کے قرض کی ادائیگی میں ناکام رہے۔

راج پال یادو، جو 30 سال سے زائد عرصے سے بالی وڈ میں سرگرم ہیں اور 200 سے زائد فلموں میں کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے پاس قرض ادا کرنے کے لیے مالی وسائل موجود نہیں ہیں۔ اداکار نے اپنے ہدایتکاری کے پہلے پروجیکٹ ’اتا پتا لاپتا‘ کے لیے 5 کروڑ روپے قرض لیے تھے لیکن فلم کی باکس آفس پر ناکامی اور طویل قانونی کارروائی کے باعث رقم سود کے ساتھ تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: راجپال یادو کی مالی مدد کے لیے فلمی و سیاسی شخصیات متحرک، کس نے کتنے پیسے جمع کیے؟

راجپال یادو نے خود کو سرنڈر کرنے سے قبل کہا تھا کہ سر، میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اور کوئی راستہ نہیں دکھتا۔ یہاں ہم سب اکیلے ہیں۔ مجھے اس بحران کا خود سامنا کرنا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر کچھ حلقے ان کے ’پیسے نہیں ہیں‘ کے دعوے پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔

ایک صارف نے کہا کہ ’میں بس یہ نہیں مانتا کہ ان کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ یہ کیس 16 سال سے چل رہا ہے۔ انہوں  نے اقساط میں پیسے ادا کرنے پر رضامندی دی پھر تقریباً 20 بار ادائیگی میں ناکام رہے یا غلط معلومات فراہم کیں۔ وہ ایک بڑے کامیڈی اسٹار ہیں جنہوں نے 2010 کے بعد کئی فلمیں کیں۔ اگر وہ بین الاقوامی سٹیج شوز، ٹیلیویژن پروگرامز جیسے The Kapil Sharma Show میں حصہ لیتے ہیں اور باقاعدہ فلموں میں کام کرتے ہیں، تو یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ وہ 9 کروڑ روپے جمع نہیں کر سکتے۔‘

یہ بھی پڑھیں: ’میرے پاس اب پیسے بھی نہیں‘، جیل جانے سے پہلے اداکار راجپال یادو جذباتی ہوگئے

واضح رہے کہ سب سے پہلے Sonu Sood نے مدد بڑھائی، بعد میں سلمان خان، اجے دیوگن، اور ورن دھاون نے ان کے مینیجر گولڈی سے رابطہ کر کے مالی مدد کی پیشکش کی۔ گرو رندھاوا، نوازد الدین صدیقی، انوپ جالوتا، گورمیت چودھری، اور پروڈکشن ہاؤس TVF نے بھی یادو کی حمایت کی۔

یہ قانونی معاملہ 2010 سے چل رہا ہے جب راجپال یادو نے اپنی ہدایت کاری کی فلم ’اتا پتا لاپتا‘ کے لیے مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے 5 کروڑ روپے قرض لیے تھے۔ فلم کی ناکامی کے بعد اداکار مالی مشکلات کا شکار ہوئے اور کئی چیک باؤنس ہو گئے جس کے نتیجے میں قانونی کارروائی شروع ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ اداکار راجپال یادو کو 6 ماہ قید کیوں سنائی گئی؟

اپریل 2018 میں مجسٹریٹ کی عدالت نے راجپال یادو اور ان کی اہلیہ کو نیگوٹیبل انسٹرومنٹس ایکٹ کی سیکشن 138 کے تحت مجرم قرار دیا اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ اداکار نے اس فیصلے کے خلاف متعدد اپیلیں دائر کیں، لیکن معاملہ طویل عرصے تک عدالت میں جاری رہا اور واجب الادا رقم تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

اس دوران اداکار نے قرض کی کچھ رقم واپس کی جس میں 2025 میں 75 لاکھ روپے کی ادائیگی بھی شامل ہے۔ تاہم بار بار کی تاخیر پر عدالت نے ان کے ارادے پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ’سنجیدگی کی کمی‘ نظر آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: راجپال یادو کی مالی مدد کے لیے فلمی و سیاسی شخصیات متحرک، کس نے کتنے پیسے جمع کیے؟

4 فروری 2026 کو جسٹس سوارنا کانتا شرما نے یادو کی حتمی درخواست کو یہ کہنے کے لیے مسترد کر دیا کہ انہیں فنڈز کے انتظام کے لیے ایک ہفتے کی مزید مہلت دی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بار بار نرمی نہیں دی جا سکتی، چاہے کوئی مشہور ہی کیوں نہ ہو اور اداکار کو فوراً سپرنڈر کرنے کا حکم دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالی ووڈ راجپال یادیو راجپال یادیو قرض.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بالی ووڈ راجپال یادیو راجپال یادیو قرض یہ بھی پڑھیں راجپال یادو کروڑ روپے نہیں ہیں یادو کی کے لیے

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی