وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد ماڈل جیل اور نیشنل پولیس اکیڈمی میں زیر تعمیر ہاسٹل کے دورے کیے۔تفصیلات کے مطابق 15 برس سے زیر التواء اسلام آباد جیل کا منصوبہ صرف ایک برس میں تکمیل کے قریب ہے۔ 85 فیصد سے زائد کام مکمل ہوچکا ہے جبکہ صرف 2 ماہ  بعد فنکشنل ہوگیا ہے۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے ماڈل جیل اور زیر تعمیر ہاسٹل کے تعمیراتی کاموں پر پیشرفت کا جائزہ لیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے  بیرکس کا معائنہ کیااور تعمیراتی کام کی رفتار و معیار پر اطمینان کا اظہار کیا۔محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد میں جدید ماڈل جیل کا قیام سیکیورٹی کے پیشِ نظر بہت ضروری ہے۔ نیشنل پولیس اکیڈمی میں جدید انفراسٹرکچر کے قیام سے پولیس تربیت کا معیار مزید بلند ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ہاسٹل کی تکمیل سے پولیس افسران کو بہترین رہائشی سہولتیں مہیا کی جا سکے گی۔وزیرداخلہ محسن نقوی کو تعمیراتی کام پر پیشرفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں کہا گیا کہ جیل کی تعمیر کا منصوبہ 2011 میں شروع ہوا تھا اور کئی سال تعطل کا شکار رہا۔بریفنگ میں کہا گیا کہ جیل منصوبے کے فیز ون کا 85 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور مرکزی کنٹرول روم بھی قائم کیا جائے گا۔اس موقع پر آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصررضوی، چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا، ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور اور متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: محسن نقوی نے اسلام ا باد ماڈل جیل

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری